Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 اگست تا31 اگست 2012ء
Date 2012-08-16 - 2012-08-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 اگست تا31 اگست 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
بارانی علاقوں میں وتر محفوظ کرنا:
بارانی علاقوں میں ہونے والی سالانہ بارشوں کا دوتہائی حصہ موسم گرما میں اور ایک تہائی حصہ موسم سرما میں موصول ہوتا ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں خریف کی فصلیں تو ان بارشوں سے براہ راست مستفیذ ہوتی ہیں جبکہ ربیع کی فصلیں موسم گرما کی بارشوں کے محفوظ کردہ وتر میں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان سے بہتر پیداوار کا حصول اسی بات پر منحصر ہے کہ ایسے مؤثر طریقے اختیار کیے جائیں کہ موسم گرما کی بارشوں کا پانی بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے زیادہ سے زیادہ زمین میں جذب ہو کر تا دیر محفوظ کر لیا جائے تو ربیع کی فصلوں کی پیداوار 20تا25فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے مون سون بارشیں شروع ہونے سے پہلے زرعی ماہرین کے تجویز کردہ طریقوں مثلاً گہر اہل چلانا ، وٹ بندی مضبوط کرنا، ہمواری زمین اور ڈھلوان سطح کی مخالف سمت میں ہل چلانے پر عمل کریں۔
کپاس کی دیکھ بھال اور لیف کرل وائرس سے بچاؤ کی حکمت عملی:
1ـ کپاس کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں۔اکثر جڑی بوٹیاں باغات ، کھالوں اور وٹوں پر ہوتی ہیں ان کو تلف کیا جائے۔
2ـ کپاس کے علاوہ یہ وائرس بہت سی دیگر متبادل فصلوں اورمیزبان پودوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس لیے ان پودوں کا مکمل تدارک لازمی ہے۔
3ـ کپاس کی لیف کرل وائرس سفید مکھی کے ذریعے فصل پر پھیلتی ہے لہٰذا اس کے انسداد کے لیے مختلف کیڑے مار زہروں (IGR)کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی انسداد (Bological Control)کازیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے اس سلسلے میں کسانوں کو آگاہ کیا جائے کہ کرائی سوپرلا ایک مفید کیڑا ہے جو سفیدمکھی کے بچوں کو کھاتا ہے ۔ اس کیڑے کووہاڑی، ساہیوال، پاکپتن، اوکاڑہ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، حافظ آباد، لیہ ، مظفر گڑھ اور شیخوپورہ کے اضلاع میں قائم حیاتیاتی کنٹرول لیبارٹریوں میں پالا جاتاہے ۔ ایک ایکڑ میں 80تا90کارڈ لگائے جاتے ہیں۔ ایک کارڈ پر 20تا25انڈے ہونے چاہیں۔ کسان بھائی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔
4ـ سفید مکھی کے مؤثر کنٹرول کے لیے سپرے طلوع آفتاب سے پہلے یا پھر سورج نکلنے کے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ بعد تک کریں۔
5ـ سفید مکھی کے کنٹرول کے لیے ایک ہی قسم کی زہر بار بار استعمال نہ کی جائے بلکہ بدل بدل کر استعمال کی جائے اور سپرے کے لیے پانی کی مقدار بڑھاتے جائیں۔
6ـ اگر خدانخواستہ کپاس پر وائرس کاحملہ ہو جائے تو دل برداشتہ ہونے کی بجائے کپاس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ بیماری کے مضر اثرات کم ہوں اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔
7ـ وائرس کے حملے کے آغاز سے اگر کھاد اور پانی کا استعمال مناسب طریقے سے کر کے پودے کی بڑھوتری کو تیز کر دیا جائے تو وائرس کے نقصانات کم ہو سکتے ہیں۔
8ـ اگیتی کاشت کی چنائی شروع ہو چکی ہے ۔چنائی کے بعد پھٹی کو ایک دو دھوپ ضرور لگوائیں تاکہ نمی کومناسب سطح پر لایا جا سکے۔
9ـ بارش کے دنوں میں چنائی نہ کریں بلکہ جب کپاس سوکھ جائے تو چنائی کریں۔
10ـ کپاس پر جراثیمی جھلساؤ کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے تدارک کریں۔
دھان
1ـ کھیتوں کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کریں۔
2ـ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے زہروں کے استعمال کی صورت میں زہر ڈالنے کے ایک ہفتہ بعد تک کھیت سے پانی خشک نہ ہونے دیں۔
3ـ تنے کی سنڈیوں اور پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ اگست میں شروع ہوتا ہے اس لئے ہفتہ عشرہ کے وقفہ سے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔
4ـ پیسٹ سکاؤٹنگ کرتے وقت ایک مربع میٹر کا چوکھٹااستعمال کریں اور کھیت کے سائز اور شکل کے مطابق چار مختلف مقامات کا انتخاب کریں۔پھر پودوں کی کل تعداد اور ان میں متاثرہ شاخیں نوٹ کریں اور حملہ فیصد معلوم کریں۔
5ـ اگر کیڑے کا حملہ معاشی حد تک پہنچ جائے تو زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے بروقت تدارک کریں۔
کماد
1ـ گرداس پور بورر کا حملہ چونکہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے لہذا ماہ اگست میں فصل کا باقاعدگی سے مشاہدہ کرتے رہیں اور اگر کہیں حملہ نظر آئے تو حملہ شدہ پودوں کے متاثرہ حصہ سے دو یا تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر اکٹھا کر کے جانوروں کو کھلائیں یا زمین میں دبا دیں۔
2ـ ستمبر کاشت کے لئے صحت مند بیج حاصل کر نے کے لئے بہتر کھیت کا چناؤ کریں۔
3ـ اگر کسی کھیت میں بیماری کا حملہ نظر آئے تو زرعی توسیعی عملہ سے مشورہ کے بعد سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں۔
مکئی
4ـ سنتھیٹک اقسام کے لیےآبپاش علاقوں میں درمیانی زمین کے لئے دو بوری ڈی اے پی +ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ +18%ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ+پونی بوری یوریا بوقت کاشت فی ایکڑ ڈالیں۔
5ـ بارانی علاقوں میں ساری کھاد بوائی کے وقت ڈالیں۔
6ـ کونپل کی مکھی کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت کے توسیعی کارکن سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔
7ـ موسمی حالات کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے آبپاشی کریں البتہ اگر کہیں بارش کا پانی زیادہ کھڑا ہو جائے تو فالتو پانی فوراََ کھیت سے نکا ل دیں۔
مونگ /ماش
1ـ مونگ ماش کی اچھی پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی نہایت ضروری ہے ۔لہٰذا اس کو بروقت تلف کریں۔
2ـ مونگ ماش کی فصل کو 3پانی درکا رہیں۔پہلا پانی اگاؤ کے 3ہفتہ بعد ،دوسراپانی پھول نکلنے پر اور تیسرا پانی پھلیاں نکلنے پر دیں۔اگر اس دوران بارش ہو جائے تو آبپاشی حسب ضرورت کریں ۔زیادہ بارش کی صورت میں زائد پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست کریں۔
3ـ مونگ ماش کی بیماریوں اور کیڑوں مکوڑوں کے تدارک کے لیے مناسب حکمت عملی اپنائیں۔
سبزیات
1ـ ٹماٹر اور گوبھی کی پنیری کی کاشت جاری رکھیں۔
2ـ ٹماٹر کی منظور شدہ اقسام روما،نگینہ اور پاکٹ کاشت کریں۔
3ـ کاشتہ سبزیات کی موسمی حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آبپاشی کریں۔
باغات (ترشاوہ پھل)
4ـ کاغذی لیموں اور میٹھے کی برداشت کریں۔
5ـ کھٹی کی نرسری کے لئے یہ موزوں وقت ہے۔صحت مندپھل اکٹھا کریں بیج نکالیں اور پانی سے دھوئیں سائے میں خشک کر یں اور بجائی کر دیں۔
6ـ نئے پودے لگانے کے لئے 3x3x3 مکعب فٹ کے گڑھے کھودیں اور دو ہفتے کھلے رکھیں۔
7ـ پودوں کو اگست میں نائٹروجن کی تیسری قسط ڈالیں۔
8ـ میٹھے کا پھل برداشت کرنے کے بعد 1کلو گرام یوریا1+کلو گرام ڈی اے پی اور 1کلو گرام پوٹاش فی پودا ڈالیں اور تنے سے پودے کے پھیلاؤ کے برابر دائرہ میں کھاد ڈالیں۔
9ـ موسمی حالات کے پیشِ نظر آبپاشی کریں۔
10ـ کیڑوں اور بیماریوں کا مربوط طریقہ سے حالات کے مطابق تدارک کریں۔
11ـ باغ میں پودوں کے ناغوں کا جائزہ لیں پیوند کاری کی تیاری کریں۔
12ـ برسات کے موسم میں اکثرپودوں کے تنوں سے گوند نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔اس کو کسی تیز دھار آلہ سے اُتار کر زخموں پربورڈوپیسٹ لگائیں۔
آم
1ـ پچھیتی اقسام کے پھل کی برداشت جاری رکھیں۔ناپختہ پھلوں کو توڑنے سے گریز کریں۔
2ـ نئے باغ لگانے کے لئے گڑھے کھودیں۔
3- نائٹروجنی کھاد 1کلو گرام (یوریا) فی پوداکی تیسری اور آخری قسط ڈالیں۔
4ـ برداشت سے د و ہفتہ قبل تک آبپاشی جاری رکھیں۔
5ـ کیڑوں کا مکمل جائزہ لیتے رہیں تیلے اور سکیلز موسم متعدل ہونے پر دو بارہ نمودار ہو سکتے ہیں ضروری ہو تو سپرے کریں۔
6ـ جڑی بوٹی مار زہروں کا انتظام کریں۔
انتباہ برائے پارتھینیم(گاجر بوٹی)
گاجر بوٹی تیزی سے بڑھنے والی دنیا کی دس بدترین جڑی بوٹیوں میں سے ایک ہے جو انسانوں ، جانوروں اور فصلوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق یہ جڑی بوٹی کھالوں ، راستوں اورناکارہ زمینوں سے حرکت کر کے اب فصلوں میں بھی حملہ آور ہوتی نظر آرہی ہے۔ وسطی پنجاب کے کھیت اس سے زیادہ متاثر ہیں۔ برسات کے موسم میں اس کی بڑھوتری زیادہ ہوتی ہے۔ پودا ایک میٹر اونچا اورسارا سال اس پر پھول آتے رہتے ہیں۔
گاجر بوٹی کے کنٹرول کے لیے اسے اُگتے ہی کاٹ کر نامیاتی کھاد بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم کیمیائی کنٹرول کے لیے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔