Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 جولائی تا31 جولائی 2012ء
Date 2012-07-16 - 2012-07-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 جولائی تا31 جولائی 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس
1ـ مون سون بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں کو پانی دینے سے پہلے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی ضرور دیکھ لیں۔
2ـ حالیہ مون سون بارشوں کی وجہ سے جن کھیتوں میں پانی زیادہ کھڑا ہو جائے ان کے نکاس کا بروقت انتظام کریں۔اگر پانی کپاس کے کھیت سے باہر نہ نکالا جا سکتا ہو تو کھیت کے ایک طر ف لمبائی کے رُخ کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیں۔
3ـ نائٹروجنی کھادکا استعمال زمین کی زرخیزی اورفصل کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں ۔
4ـ آبپاشی واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں یعنی پانی کی کمی کی علامات کھیت میں واضع ہونے سے پہلے آبپاشی کریں۔ان علامات میں پتوں کا نیلگوں ہونا، اوپر والی شاخوں کی درمیانی لمبائی میں کمی ، سفید پھول کا چوٹی پر آنا ، تنے کے اوپر کے حصے کا تیزی سے سرخ ہونا اور چوٹی کے پتوں کا کھردرا ہونا شامل ہے۔
5ـ زیادہ درجہ حرارت اورٹینڈوں کی وجہ سے کچھ بی ٹی اقسام کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جس جگہ زمین میں تجزیہ کے بعد کمی پائی گئی ہو بوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔
6ـ بارش کے بعد کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے ان کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں۔
7ـ اس وقت کپاس پر ملی بگ کا حملہ بڑھ رہا ہے جو کہ ابھی تک ٹکڑیوں(Traces)میں ہے اس پر کڑی نظر رکھی جائے اور حملہ شروع ہوتے ہی محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے اس کا تدارک کریں۔
8ـ اگر کپاس پر وائرس کا حملہ ہو جائے تو دل برداشتہ ہونے کی بجائے کپاس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دیں اورکھاد اور آبپاشی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماری کے مضر اثرات کم ہوں اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔
9ـ کپاس کی فصل پراگرسفید مکھی کاحملہ نقصان کی معاشی حد تک پہنچ جائے تو سپرے کرنے میں دیر نہ کی جائے۔
10ـ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے چست تیلا کے حملہ کا اندیشہ ہے ۔ ا س پر کڑی نظررکھی جائے اور نقصان کی معاشی حد تک پہنچنے پر محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔
11ـ کپاس کی فصل میں ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اگرکیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب ہزر استعمال کریں۔
12ـایک ہی گروپ کی زہروں کا با ر بار سپرے نہ کیا جائے۔
دھان
1ـ شاہین باسمتی کے سلسلہ میں لاب کی منتقلی 31جولائی تک مکمل کریں۔
2ـ کھیت میں لاب کی منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25تا 40 دن کے درمیان ہونی چاہیے۔ پنیری اکھاڑنے سے ایک دو روز پہلے کھیت کو پانی دیں تاکہ زمین نرم ہو جائے اور اکھاڑتے وقت پودوں کی جڑیں ٹوٹنے نہ پائیں۔
3ـ دو دو پودے 9-9انچ کے فاصلے پر اکٹھے لگائیں لاب لگانے کے بعد فاضل پنیری کی کچھ ہتھیاں وٹوں کے ساتھ ساتھ پانی میں رکھ دیں تاکہ جہاں کہیں پودے مر جائیں ان زائد ہتھیوں کی لاب سے اس کمی کو پورا کیا جا سکے ۔یہ کام منتقلی کے ہفتہ دس دنوں کے اندر مکمل کریں۔
4ـ جڑی بوٹیاں تلف کرنے سے پیداوار میں قابل لحاظ اضافہ ہوتا ہے لہذا جڑی بوٹی مار زہر لاب کی منتقلی کے 3تا5دن کے اندر اندر استعمال کریں اور کیمیائی زہروں کا استعمال زرعی توسیعی کارکن کے مشورے سے کریں۔
5ـ زہر ڈالنے کے ایک ہفتہ بعد تک کھیت سے پانی خشک نہ ہونے دیں۔
6ـ زنک کی کمی دور کرنے کے لیے جو کاشتکارپنیری میں زنک سلفیٹ استعمال نہیں کر سکے۔وہ لاب لگانے کے10تا12دن بعد تک 35فیصد زنک سلفیٹ 5کلو گرام یا20فیصد زنک سلفیٹ بحساب 10کلو گرام فی ایکڑ ڈالیں۔
7ـ نائٹروجن کھاد کا بقیہ حصہ لاب کی منتقلی کے 35دن بعد ڈالنے سے پہلے 4تا5دن کے لئے فصل کو ہلکاساسو کا دیں اس کے بعد کھاد کا چھٹہ دے کر پانی لگا دیں۔
کماد
1ـ موسمی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے 15تا20دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
2ـ گھوڑا مکھی کے تدارک کے لئے اس کے دشمن طفیلی کیڑوں کی پرورش کو فروغ دیں ۔ان کھیتوں میں جہاں طفیلی کیڑا وافر تعداد میں ہو وہاں سے طفیلی کیڑے کے انڈوں اور کویوں والے پتے6انچ لمبائی میں کاٹ لیں اور گھوڑا مکھی کے متاثرہ کھیتوں میں جہاں طفیلی کیڑے ہوں پتوں کے ساتھ لٹکا دیں۔اگر حملہ شدید ہواور طفیلی کیڑا بھی کھیت میں موجود نہ ہو تو مؤثردانہ دار زہر کا استعمال کریں اور پانی لگا دیں۔
مونگ:
1ـ مونگ کی کاشت کے لئے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔جبکہ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین غیر موزوں ہے۔
2ـ آبپاش علاقوں میں منظور شدہ اقسام نیاب مونگ2006 ، ازری مونگ2006 اورمونگ 2011 جبکہ بارانی علاقوں میں چکوال ایم6- کاشت کریں اورشرح بیج12 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔۔
3ـ جس کھیت میں مونگ کی فصل پہلی دفعہ کاشت کی جائے اس کے بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگانے سے پودوں کی نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔جراثیمی ٹیکے شعبہ دالیں اور شعبہ بیکٹریالوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اور قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر اسلام آباد سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
4ـ بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے پر مونگ کی بوائی15جولائی تک مکمل کریں۔بارانی علاقوں میں کاشتکار بھائیوں کو مطلع کیا جائے کہ حالیہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ڈھلوان کی مخالف سمت گہر ا ہل چلائیں، کھیتوں کو ہموار رکھیں، وٹ بندی مضبوط کریں اور کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک ہوں۔دیسی کھاد یا سبز کھاد کا استعمال بڑھایا جائے جس سے وتر زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے۔
5ـ کاشت تر وترحالت میں کریں اورقطاروں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ رکھیں۔پودے سے پودے کافاصلہ 4انچ یا10سینٹی میٹر رکھیں۔
6ـ ایک بوری ڈی اے پی+ 1/2 بوری پوٹاشیم سلفیٹ بوقت کاشت ڈالیں۔
ماش:
1ـ ماش کی کاشت کے لئے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔جبکہ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین غیر موزوں ہے۔
2ـ ماش کی ترقی دادہ اقسام چکوال ماش ، ماش 97-اورماش عروج 2011-کاشت کریں۔زیادہ بارش والے علاقوں میں 8کلوگرام اور دوسرے علاقوں میں10کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔
3ـ جولائی کا پورا مہینہ اس کی کاشت کے لیے مناسب ہے۔البتہ جولائی کا پہلا ہفتہ کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
4ـ کاشت تر وترحالت میں کریں اورقطاروں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ رکھیں۔زیادہ بارش والے علاقوں میں کھیلیوں پر کاشت کریں۔
5ـ ایک بوری ڈی اے پی 1/2+بوری پوٹاشیم سلفیٹ بوقت کاشت ڈالیں۔
مکئی:
1ـ مکئی کی کاشت کے لئے بھاری میرا زرخیز زمین موزوں ہے۔
2ـ بارانی علاقوں میں مکئی مون سون شروع ہونے سے پہلے کاشت کریں تاکہ پودے جڑوں کا نظام قائم کر لیں اور مون سون کی بارشوں کا صحیح فائدہ اٹھا سکیں۔
3ـ محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام ساہیوال2002-، اگیتی2002-،ایم ایم آر آئی ییلو،پرل ، ہائبرڈ ایف ایچ810- اور یوسف والا ہائبرڈکاشت کریں۔اس کے علاوہ پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس بھی اچھے ہائبرڈ بیج موجود ہیں۔ اس لیے اچھی کمپنی کا تسلی بخش بیج خرید فرمائیں۔
4ـ مکئی کی کاشت سنگل رو کاٹن ڈرل سے سوا دو سے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کریں۔
5ـ شرح بیج ڈرل سے کاشت کے لئے 12تا 15 کلو گرام اور کھیلیوں پر کاشت کے لئے 8سے 10 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
6ـ درمیانی زمین میں بوائی کے وقت دو بوری ڈی اے پی اورایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑڈالیں جبکہ بارانی علاقوں میں ساری کھادایک بوری ڈی اے پی+ایک بوری یوریا +آدھی پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ہی ڈال دیں۔
7ـ موسمی مکئی کے لئے پودوں کی تعداد 27 سے 30 ہزار فی ایکڑ رکھیں اور کاشت ہمیشہ سیدھی قطاروں میں کریں۔
پنجاب کی دالیں
دالیں ہماری خوراک کا اہم حصہ ہیں۔ یہ ہماری خوراک میں سستے داموں پروٹین (لحمیات) مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ خوراک کو غذائیت کے اعتبار سے بہتر اور متوازن بنانے کے لیے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ دالیں پھلی دار اجناس کے خاندان سے تعلق رکھنے کے ناطے ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے جڑوں پر موجود منکوں (Nodules)کے ذریعے زمین میں داخل کر کے پودوں کے لیے دستیاب بناتی ہیں اور زمین کی زرخیزی کو بحال رکھتی ہیں۔دوسری فصلوں کی طرح دالوں کی پیداوار میں اضافہ ان کے زیر کاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے ہی ممکن ہے۔ چنا، مسور،مونگ اور ماش صوبہ میں کاشت کی جانے والی اہم دالیں ہیں۔ تا ہم مونگ کے علاوہ چنا، مسوراور ماش کی ملکی ضروریات درآمد سے پوری کی جاتی ہیں۔ اگر کاشتکاروں کو نئی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی کاشت اور نئی پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر دالوں کی مجموعی پیداوارمیں اضافہ پر آمادہ کر لیں تو دالوں کی درآمد پر کیا جانے والا کیثر مقدار کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔
سبزیات
1ـ ٹماٹر اور گوبھی کی پنیری کاشت کریں۔
2ـ ٹماٹر کی منظور شدہ اقسام روما،نگینہ اور پاکٹ کاشت کریں۔
3ـ ٹماٹر کی پہلی فصل کے لئے پنیری جولائی کے مہینہ میں کاشت کریں۔
4ـ سبزیات کو8تا10دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں البتہ کمزور زمین میں یہ وقفہ چار تا پانچ دن تک رکھیں۔
5ـ بینگن اور بھنڈی پر ہڈا بیٹل ،سبز تیلہ اور جوؤں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔
6ـ گھیا کدو ، چپن کدو، حلوا کدو،کھیرا اورگھیا توری پر اگر کدو کی لال بھونڈی کا حملہ مشاہدہ میں آئے تو محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب
زہر کا دھوڑا یا سپرے کریں۔
باغات
1ـ ترشاوہ باغات کو 10تا 15دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں اور بورڈ و مکسچر کا سپرے کریں۔
2ـ آم کے باغات کو 12تا14دن کے وقفے سے آبپاشی کریں۔
3ـ گرے ہوئے پھل کو جمع کر کے زمین میں دبا دیں۔
4ـ کیڑوں کے حملہ کا جائزہ لیتے رہیں اور پھل اتارنے کا عمل مکمل ہونے تک پھل کی مکھی کے انسداد کی تدابیر جاری رکھیں۔
5ـ شاخ تراشی کے آلات کا جائزہ لیں تیلے اور سکیلز کے لئے کیڑے مار زہر کا انتظام کریں اور اعلیٰ نسل کے پودوں کی خریداری کا انتظام کریں۔