Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 مئی تا31 مئی 2012ء
Date 2012-05-16 - 2012-05-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 مئی تا31 مئی 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس
کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری اس طرح کی جائے کہ کھیت ہموار، زمین نرم اور بھربھری ہو۔کپاس کی صرف مندرجہ ذیل منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
1ـ بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
2ـ شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
3ـ لائنوں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 2تا4دن بعد، دوسرا پانی 6تا9دن کے بعد اوربقیہ پانی15دن کے وقفے سے لگائیں۔ آخری پانی 15اکتوبر تک لگائیں۔پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔
4ـ چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں تاکہ فصل تندرست اور توانا ہو۔ چھدرائی کرتے وقت کمزور اور بیمار پودوں کو ضرور نکالیں۔اگیتی کاشتہ فصل (مارچ) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 12تا15انچ ، درمیانی کاشت (اپریل) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9تا 12انچ جبکہ پچھیتی کاشت (یکم مئی تا 15مئی) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھیں اور کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں۔ تاکہ فی ایکڑ پودوں کی تعداد مناسب رہے۔
5ـ پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فارسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ مئی میں کاشتہ فصل کے لیے 1/4حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ، 1/4حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد، 1/4حصہ ڈوڈیاں بننے پر اور بقیہ 1/4حصہ ٹینڈے بننے پر استعمال کریں۔
6ـ محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام سی آئی ایم 496-، سی آئی ایم506-، سی آئی ایم 554-، سی آئی ایم 573-،ایم این ایچ786-، سی آر ایس ایم38-، السیمی ایچ151-،بی ایچ 167-، نبجی 115-، ایف ایچ 942-، نیاب 852-اور ایس ایل ایچ317- میں سے موزوں اقسام کا انتخاب کریں۔
7ـ کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں یکم اپریل سے31مئی تک کاشت مکمل کریں جبکہ ثانوی و دیگر علاقوں میں یکم اپریل سے15مئی تک کاشت مکمل کریں۔ کاشت پٹٹریوں پر کریں اور ہموار زمین پر قطاروں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی کے بعد پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن میں مٹی چڑھا کر پٹڑیاں بنا دیں۔
8ـ چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں۔ مرکزی علاقہ جات میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ جبکہ ثانوی علاقہ جات علاقوں میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔
9ـ ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی کپاس سی آئی ایم 506- اور سی آئی ایم 554-کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد جبکہ بقیہ اقسام کو40تا50دن بعداس کے بعد ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے کریں ۔ آخری آبپاشی 30ستمبر تک مکمل کرلیں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 7تا10 دن بعدآبپاشی کریں ۔ آخری آبپاشی 15اکتوبر تک مکمل کریں۔
10ـ مرکزی علاقہ جات میں کپاس کو 58تا69کلوگرام نائٹروجن ، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں جبکہ ثانوی علاقوں میں کپاس کو46تا 58کلوگرام نائٹروجن، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرا م پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس او رپوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور نائٹروجن کی مقدار کا 1/3حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔ 1/3حصہ نائٹروجن پہلے پانی کے ساتھ (ڈوڈیاں بننے پر) اور باقی ماندہ نائٹروجن دوسرے پانی کے ساتھ(پھول شروع ہونے پر) استعمال کریں۔
11ـ کھیتوں میں اور اردگرد پائی جانے والے سفید مکھی، ملی بگ اور لیف کرل وائرس کے میزبان پودوں کا کام دینے والی جڑی بوٹیاں بروقت تلف کریں۔
12ـ جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لیے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں ۔
13ـ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں اگر کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو پھر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہر استعمال کریں۔
گندم
1ـ گندم کو سٹور کرنے کے لیے نئی بوریاں استعمال کریں بصورت دیگر پرانی بوریوں کو سفارش کردہ زہرکے محلول سے ا چھی طرح سپرے کرنے کے بعد خشک کر کے گندم بھر یں۔
2ـ ذخیرہ کرنے سے قبل گوداموں کو اچھی طرح صاف کریں ۔ سوراخ اوردراڑیں وغیرہ بند کر دیں تاکہ گذشتہ سال کے کیڑوں کے انڈے اور بچے تلف ہو جائیں۔پھر محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں یا دھونی دیں۔
3ـ غلہ گوداموں میں رکھتے وقت اس میں نمی 10فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
4ـ چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں بحساب 35-30 فی ہزارمکعب فٹ استعمال کریں اورگودام بالکل ہوا بند ہونے چاہیں۔
5ـ اگر جنس کھلی پڑی ہوئی ہو تو اس کو پلاسٹک شیٹ سے اچھی طرح ہوا بند کر لیں۔
دھا ن
6ـ دھا ن کی پنیری 20مئی سے پہلے ہرگز کاشت نہ کریں کیو نکہ دھا ن کے تنے کی سُنڈ یا ں موسم سرما مڈھو ں میں سر ما ئی نیند گزارتی ہیں تنے کی سُنڈ یوں کے پرو انے درجہ حرارت بڑھ جانے سے ز یا د ہ تر ما رچ کے آخر اور اپریل کے شرو ع میں نکلتے ہیں اگر اس دوران دھا ن کی پنیر ی کا شت کی گئی ہو تو پروانے ان پر انڈے دے کر اپنی نسل کا آغا ز کر دیتے ہیں لہٰذا کاشتکار 20مئی سے پہلے دھا ن کی پنیری ہرگز کاشت نہ کریں۔
7ـ بیج ہمیشہ صا ف ستھرا اور تو ا نا ہو نا چا ہیے بیج اس کھیت سے لیا جا ئے جہا ں کو ئی بیما ر ی نہ آئی ہو بیج کا اگا ؤ 80% سے کم نہ ہو ۔
8ـ ایک ایکڑ دھا ن کی کاشت کے لئے پنیری اُگا نے کیلئے موٹی اقسا م کا شر ح بیج تر یا کدو کے طر یقہ میں 7-6کلوگرام ’خشک طر یقہ میں 10-8کلوگرام اور راب کے طر یقہ میں 15-12کلوگرام نیز با سمتی اقسام کے کیلئے5-4.5کلو گرام کدو کے طریقہ میں ’7-6کلوگرام اورخشک طریقہ میں 12-10 کلوگرام راب کے طر یقہ میں ڈالیں۔
9ـ چاول کی بہتر کوالٹی اور اچھی پیداوار کے لیے پنیری کی منتقلی سے پہلے ایک ماہ تک کھڑے پانی میں کدو کریں اور 7 تا 15 دن تک پانی کھڑا رکھیں۔ پانی کی کمی کی صورت میں 3 دن تک کھڑے پانی میں ہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔
10ـ تیاری کے وقت پانی اس طرح خشک کریں کہ زمین گیلی رہے تاکہ جڑی بوٹیاں اگ آئیں اور ہل چلانے سے جڑی بوٹیاں دب کرگل سڑ جائیں۔
11ـ دھان کی ممنوعہ اقسام 386، سپر فائن، کشمیرا، مالٹا، ہیرو اور سپرا ہر گز کاشت نہ کی جائیں ان اقسام کا چاول انتہائی ناقص ہے اور ان اقسام کی ملاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں باسمتی کی کم قیمت ملتی ہے۔
12ـ دھان کی کاشت کے لیے ترقی دادہ اور منظور شدہ اقسام کے ایس ,282نیاب اری 9،اری 6،کے ایسکے133،سپر باسمتی، باسمتی515-،باسمتی385،باسمتی2000،باسمتی370،شا ہین باسمتی،باسمتی پاک (کرنل باسمتی)اورباسمتی 198کے بیج کا انتظام کریں۔
13ـ بیج سے پھیلنے والی بیما ریو ں (بکا ئنی، پتوں کا بھورا جھلساؤ) کے تدا را ک کیلئے بیج کو پھپھوندکش زہر بحساب3-2گرا م فی کلوگرام بیج ضرور لگائیں۔
14ـ بیج کی دستیا بی اور ز یا دہ پیدا وار حا صل کر نے کیلئے پنجا ب سیڈ کا ر پور یشن کا تصدیق شدہ بیج اس کے قا ئم کر دہ مر اکز اور مقرر کر دہ ڈیلروں کے علا و ہ رائس ریسر چ انسٹی ٹیو ٹ کالا شا ہ کاکو، نیاب فیصل آباد اور پر ا ئیو ٹ کمپنیو ں سے حا صل کر یں۔
15ـ دھا ن کی منظور شدہ اقسا م کیلئے منا سب وقت کاشت برائے پنیری مو ٹی اقسام20مئی تا 7جو ن اور باسمتی اقسام کیلئے20مئی تا 20جو ن ہے۔
کماد
فصل کو گوڈی کریں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جا تی ہیں اور ز مین نر م ہو نے سے فصل کی جڑ یں خو ب پھیلتی ہیں نیز تنے کے گڑووں کے تدراک کیلئے مناسب دانے دار زہر کونپلوں میں ڈال کر کھیت کو پا نی لگا د یں ۔
بہا ریہ مکئی
فصل کو حسب ضرو رت منا سب وقفے سے آ بپا شی کر یں بو ر آنے پر کسی صو ر ت میں بھی پانی کی کمی نہ آ نے دیں تاکہ کھیت ترو تر حالت میں رہے اور دانہ بننے میں مد د ملے۔ لیکن پانی کھڑا نہیں ہو نا چا ہیے پھو ل آ نے پر اگر زمین کمزور ہو تو مکئی کو ایک بوری یو ر یا فی ایکڑ ڈالیں۔
مونگ پھلی
1ـ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری جاری رکھیں۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
2ـ زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں مارچ تا اپریل میں کرنی چاہیے۔لیکن وتر کی کمی بیشی کے پیش نظر اسے 25مارچ سے 31مئی تک کامیابی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
با غا ت
آم کے با غا ت کو 12تا 15دن کے وقفے سے آبپا شی کر یں ۔
پھل کی مکھی کیلئے پھند ے لگائیں عمو ماً چار پھندے فی ایکڑ کافی ہوتے ہیں۔ اگر پھندوں میں پھل کی مکھیو ں کی تعداد ز یا د ہ ہو تو پھل کی مکھی کے خلاف محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر سپرے کر یں۔ ترشا وہ با غا ت کو 15دن کے وقفہ سے آبپاشی کر یں پو دے کے تنو ں پر پیوند سے نیچے پھوٹ اور کچے گلے کی کٹا ئی کر یں جڑی بو ٹیوں کا تدرا ک بذریعہ ہل یا سپر ے کریں ۔
سبزیا ت
مو سم گرما کی سبزیا ت کو گو ڈی کریں جہاں ضرورت ہو تنوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں اور 10-8 دن کے وقفہ سے آبپا شی کر یں ۔
خر بو زے کی فصل پر پھل کی مکھی کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر سپر ے کریں سپرے کر نے کے بعد کم از کم دس دن تک پھل نہ توڑ یں ۔

نامیاتی کاشتکاری(Organic Farming) :
آرگینک فارمنگ ایسا طریقہ کاشتکاری ہے جس میں مصنوعی کیمیائی کھادیں، زرعی زہروں اور دوسرے کیمیائی مادوں کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا۔ اس طریقہ کاشت میں زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے کے لیے فصلوں کا ادل بدل ، فصلات کی باقیات، گوبر کی کھاد پریس مڈھ اور سبز کھادوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔خالص اور عمدہ خوراک کے حصول کے لیے آرگینک فارمنگ کا طریقہ دنیا بھر میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔ اس طریقہ کاشتکاری سے حاصل ہونے والی خوراک کیمیائی اثرات سے پاک ہوتی ہے اور قدرت کے قریب ہوتی ہے۔مقامی اور عالمی منڈی میں ایسی اجناس اور سبزیات کی قیمت عام فصلات سے کئی گنازیادہ ملتی ہے۔ اس لیے اس طریقہ کاشتکاری کو اپنا کر زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔کیمیائی کاشتکاری کو نامیاتی کاشتکاری میں تبدیل کرنے کے لیے تین سال کا عرصہ درکار ہے۔ ابتدائی 3سے4سال میں نامیاتی کاشتکاری کی پیداوار غیر نامیاتی کاشتکار ی سے کم ہوتی ہے لیکن بتدریج ان فصلات کی پیداوار بہتر ہوتی ہے ۔ آرگینک فارمنگ اپناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے آرگینک فارم میں متصل کھیتوں سے کوئی کیمیائی مادے جذب نہ ہورہے ہوں۔