Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16ستمبر تا30ستمبر2014ء
Date 2014-09-16 - 2014-09-30
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
* کپاس کے کھیتوں کو پانی دینے سے پہلے’’ محکمہ موسمیات کی پشین گوئی‘‘ ضرور دیکھ لیں۔ بارشوں کی وجہ سے بعض اوقات کھیت میں پانی کھڑ اہوجاتا ہے۔ اس صورت میں پانی کو کھیت سے نکالنے کا بندوبست کریں۔
* آبپاشی واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔پانی کی کمی کی علامات کھیت میں واضع ہونے سے پہلے آبپاشی کریں۔ان علامات میں پتوں کا نیلگوں ہونا، اوپر والی شاخوں کی درمیانی لمبائی میں کمی ، سفید پھول کا چوٹی پر آنا ، تنے کے اوپر کے حصے کا تیزی سے سرخ ہونا اور چوٹی کے پتوں کا کھردرا ہونا شامل ہے۔
* کپاس کی فصل میں ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اگرکیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔
* کپاس کی فصل پر پھول آنے پر پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) کا 2فیصد محلول (2کلوگرام پوٹاشیم نائٹریٹ فی 100لیٹر پانی ) بنا کر ایک ہفتہ کے وقفے سے 4 سپرے کریں۔
* نائٹروجن کی کمی کی صورت میں کپاس پر 2کلوگرام یوریا فی ایکڑ کے حساب سے 100لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔پھل کو گرنے سے بچانے کے لیے زنک، بوران اوریوریا کا سپرے کریں۔
* چنائی کے بعد پھٹی کو ایک دو دھوپ ضرور لگوائیں تاکہ نمی کومناسب سطح پر لایا جا سکے۔بادل ہونے کی صورت میں چنائی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کھلی ہوئی کپاس اچھی طرح خشک نہ ہو جائے۔
* چنائی شروع کرنے کاموزوں ترین وقت صبح10:00بجے کے بعد شروع ہوتاہے۔ جس وقت فصل اورٹینڈوں پر سے رات کی شبنم خشک ہوجائے تاکہ کپاس بدرنگ نہ ہونے پائے اور نمی کی وجہ سے جننگ کے دوران مشکلات کاسامنا بھی نہ ہو۔ شام 4:00بجے چنائی بند کر دینی چاہیے۔
* چنائی کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا(جھولی) سوتی ہونا چاہیے اور چنی ہوئی پھٹی کو صاف اور خشک سوتی کپڑے پر رکھا جائے اورا س کے بعد صاف اونچی اور خشک جگہ پر اکٹھا کیا جائے تاکہ پھٹی آلودگی سے محفوظ رہ سکے۔بی ٹی اور غیر بی ٹی اقسام کی روئی کو علیحدہ رکھیں۔
* چنی ہوئی کپاس میں نمی، کچے ٹینڈے ،کھوکھڑی، رسیاں، سوتلی، بال وغیرہ ہر گز شامل نہ ہونے دیں۔ گودام میں لے جانے سے پہلے یہ تمام اشیاء ہاتھ سے چن کر نکال دیں۔
* نمی کی وجہ سے اس موسم میں کپاس پر سبز تیلااورلشکری سنڈی کا حملہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ان کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔
* کپاس کے ٹینڈوں اورپتوں کے جھلساؤ کی صورت میں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے تدارک کریں۔
* اگرفصل بڑھوتری کی طرف زیادہ مائل ہو تو میپی کواٹ کلورائیڈ 100 (Mepiquat Chloride)ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔
دھان:
* تنے کی سنڈی، پتہ لپیٹ سنڈی اور سفید پشت والے تیلے کے لیے دھان کی پیسٹ سکاؤٹنگ کرتے رہیں۔ اگر حملہ معاشی حد سے زیادہ ہو تو مناسب دانے دار زہروں کا استعمال کریں۔
* دھان کے جراثیمی جھلساؤ سے بچاؤ کے لیے بیماری والے کھیت سے تندرست کھیت کو پانی نہ جانے دیں۔ دھان کے کھیتوں میں پانی کی سطح 3تا5سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہو۔ بیمار پودوں کو نکال کر تلف کریں نیز کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں۔ زیادہ حملہ کی صورت میں کاپر آکسی کلورائیڈ بحساب 3گرام فی لیٹر یا بورڈ ومکسچر1:1:120کا سپرے کریں۔ یعنی 1کلو گرام نیلا تھوتھا، ایک کلوگرام ان بجھا چونا اور120لیٹر پانی میں ملا کر استعمال کریں۔ بورڈومکسچر بنانے کا مکمل طریقہ محکمہ زراعت توسیع کے عملہ سے سیکھیں۔
کماد:
-1 ستمبر کاشت شروع کریں اور مندرجہ ذیل اقسام میں سے انتخاب کریں۔
اگیتی تیا رہونے والی اقسام:
سی پی77-400، سی پی ایف237، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242، سی پی ایف243۔
درمیانی تیا رہونے والی اقسام:
ایس پی ایف213، ایس پی ایف234، ایس پی ایف 245، سی پی ایف 246-، سی پی ایف 247-اور سی پی ایف 248-۔
پچھیتی تیا رہونے والی اقسام:
سی او جے84۔
نوٹ: ٹرائٹان ، سی اوایل54، سی او1148(انڈین)، سی اوایل29، سی او ایل44، بی ایل4 ،ایل116 ، ایل118، بی ایف 162-اور ایس پی ایف 238-ممنوعہ اقسام ہیں۔ ان کو ہرگز کاشت نہ کیا جائے۔
* فروری کاشتہ اور مونڈھی فصل کو 15تا20دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
* شرح بیج 100تا 120من فی ایکڑ رکھیں اگر کاشت میں تاخیر ہو جائے یازمین کی تیاری صحیح نہ ہو تو بیج کی مقدار میں 10تا15فیصد اضافہ کرلیں۔
* ستمبر کاشتہ کماد کے لیے زمین کی تیاری اورکھادوں کا استعمال محکمہ زراعت توسیع کی سفارش کردہ مقدار کے مطابق کریں یعنی درمیانی زمین میں 3188بوری یوریا2+بوری ڈی اے پی 2+بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا 4بوری یوریا2+بوری ٹی ایس پی 2+بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کریں۔ فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادوں کی پوری مقدار بوائی کے وقت ڈال دیں جبکہ نائٹروجن کا 1/3اگاؤ کے بعد نومبر میں جبکہ باقی بالترتیب مارچ کے آخراور اپریل میں مٹی چڑھاتے ہوئے ڈالیں۔
مکئی:
* فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنے کے لیے گوڈی 3-2دفعہ کریں۔آخری گوڈی پر کھیلیاں بنادیں اور پودوں پر مٹی چڑھا دیں تاکہ آندھی وغیرہ سے محفوظ رہے۔
* مکئی کو کم ازکم 8-6پانی ضرورلگائیں۔پہلی آبپاشی اگاؤ کے 4-3دن بعد کی جائے لیکن دوسری طرف یہ فصل پانی کی زیادتی بھی برداشت نہیں کرتی لہٰذا فالتو پانی کھیت سے نکالنے کا بندوست کریں۔
* اگرمکئی کا قد 1-1189فٹ ہو جائے تو یوریا کھاد کی ایک بوری فی ایکٹر ڈالیں۔
* کیڑوں مکوڑوں کے کیمیائی انسداد کے لیے محکمہ زراعت توسیع کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہریں استعمال کریں۔
روغندار اجناس:
* کینولا کی کاشت کا یہ بہترین موسم ہے۔
* اچھی پیداوار کے لیے شرح بیج 1189تا 2کلوگرام جبکہ بارانی علاقوں کے لیے 2تا2189کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔
* بجائی کے وقت اور بعد میں محکمہ زراعت توسیع کی سفارش کردہ کھادیں ضرور استعمال کریں۔
چنا:
* اٹک اور چکوال میں چنے کی فصل 25ستمبر سے 15اکتوبر تک کاشت کریں۔ کاشت ڈرل یا پور سے کریں تاکہ مناسب گہرائی پر بیج گرے اور روئیدگی اچھی حاصل ہو۔شرح بیج 30تا35کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔ بیج کے حصول کے لیے پنجاب سیڈ کارپوریشن ، نیاب فیصل آباد، AARIفیصل آباد، BARI چکوال اور AZRIبھکر سے رابطہ کریں۔
* ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی مخلوط کاشت بڑی مفید ثابت ہوئی ہے۔
* 4فٹ کے فاصلہ پر کاشتہ کماد کے درمیان بیڈ پر چنے کی دولائنیں جبکہ2189فٹ کے فاصلہ پر کاشت کماد میں چنے کی ایک لائن کاشت کریں۔
* چنے کی دیسی اقسام بلکسر2000، پنجاب2008، ونہار2000،بٹل 98، تھل 2006، سی ایم 98-اور بھکر 2011 جبکہ کابلی چنے کی قسم سی ایم 2008،نو ر 91، نور 2009-اور نور 2013-کاشت کریں۔
* چنے کی اچھی پیداوار کے لیے بجائی کے وقت 1189بوری ڈی اے پی استعمال کریں۔
باغات:
آم:
* خشک پودوں کو جلدازجلد تلف کر کے ان کی جگہ اگر ماحول سازگار ہو تو نئے پودے لگائیں۔
* اگر پودے کی کچھ شاخیں خشک ہوئی ہوں تو ان کو کاٹ کر کٹی ہوئی جگہ پر پھپھوندی کش زہر پیسٹ بنا کر لگائیں۔
* زمین وترآنے پر باغ کی گوڈی کریں تاکہ پانی کھڑا رہنے سے جو زمین سخت ہوئی ہے وہ بھربھری اور نرم ہو جائے اور ہوا کا گزرآسان ہو۔
* ہمواری زمین اگر درکار ہو تو ضرور کریں تاکہ پانی اوردوسرے مداخل بہتر استعمال ہو سکیں
* باغات کی بحالی کے لئے ان کو مناسب مقدار میں کھاد ڈالیں۔فاسفورسی کھاد جڑوں کی مضبوطی اور نشوونماکے لئے ضروری ہے۔پوٹاش ڈالنے سے فاسفورس کی افادیت اور پودے کی بڑھوتری بھی بہتر ہوتی ہے۔
* باغات پر کیڑے مار اور پھپھوندی کش دواسپرے کریں اور جڑوں کو گلنے سڑنے سے بچانے کے لئے (تھائیو فینیٹ میتھائل)ضرورڈالیں۔
ترشاوہ پھل:
* اس ماہ میں پھل کی بڑھوتری کا عمل جاری رہتا ہے اور نئے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ کچے گلے ختم کریں۔ نائٹروجن کھاد کی تیسری قسط اگر نہ ڈالی ہو تو ستمبر میں ڈال دیں۔
* نئے پودے لگانے کے لیے گڑھوں کو بھل، گوبر کی گلی سٹری کھاد اورکھیت کے اوپر والی مٹی سب برابر مقدار میں رکھ کر بھر دیں۔
* پھل کوپکنے سے پہلے گرنے سے بچانے کے لیے پلانوفکس2.5ملی لیٹر فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
* 15دن کے وقفہ سے آبپاشی کرتے رہیں۔
* کیڑوں اور بیماریوں کی شدت معلوم کر کے ان کا تدارک محکمہ زراعت توسیع کے عملہ سے مشورہ کر کے کریں۔
سبزیات:
آلو:
* آلو کی کاشت کا بہترین وقت یکم اکتوبر سے 20اکتوبر تک ہیلہذا آلو کی بہتر پیداوار کے لئے تیاری ابھی سے شروع کریں اور زرعی مداخل کا بندوبست کریں۔
* آلو کی تازہ پیداوار بطور بیج نئی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہوتی کاشت سے پہلے خوابیدگی کو توڑنا ضروری ہوتا ہے۔آلو 10تا12ہفتے پڑا رہنے سے خوابیدگی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
* بیماری سے پاک تصدیق شدہ بیج کا استعمال کریں۔
* کاشت سے کم از کم 10دن پہلے بیج کو سردخانے سے نکال لیں اور سایہ دار جگہ پر رکھیں تاکہ بیج باہر کے عام درجہ حرارت سے اپنے آپ کو مانوس کر لے اور ا س میں شگوفے پھوٹ آئیں۔
* موسم خزاں کی فصل کے لیے شرح تخم 1200تا1500کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔
* گوبر کی گلی سڑی کھاد 12تا15ٹن فی ایکٹر کاشت سے189 2-1ماہ پہلے ہی ڈال کر ہل چلا کر زمین میں ملا لینی چاہیے۔
* کیمیائی کھادوں میں ڈی اے پی 2188بوری +یوریا 1189بوری+پوٹاشیم سلفیٹ 2بوری +زنک سلفیٹ(21%) 10کلو گرام یا نائٹروفاس5بوری+پوٹاشیم سلفیٹ 2بوری +زنک سلفیٹ(21%) 10کلو گرام فی ایکٹر زمین کی تیاری کے وقت ڈالیں۔
* آلو کی بہترین اقسام ڈیزائری ، کارڈنیل، ڈایامنٹ، فیصل آباد سفید ، فیصل آباد سرخ اور ایس ایچ 5-کا تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔
مولی، گاجر، شلجم :
* موسم سرما کے لیے مولی، گاجر، شلجم کی کاشت جاری رکھیں۔ مولی، گاجرا ور شلجم کی شرح بیج بالترتیب 5,4تا8اور1کلوگرام فی ایکٹر کریں۔
* مولی ، شلجم کو 1189فٹ کے فاصلہ پر کھیلیوں پر کاشت کریں۔
* بے موسمی سبزیوں کی کاشت کے لیے ٹنل ٹیکنالوجی اپنائیں اور مشورہ کے لیے محکمہ زراعت توسیع سے رابطہ کریں۔
برسیم ایک منافع بخش فصل:
برسیم کاشمار موسم ربیع کے چارہ جات میں کیا جاتاہے۔ا سے ربیع کے چارہ جات کا بادشاہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی 4سے6کٹائیوں میں 40سے 50ٹن پیداوار فی ہیکٹیر حاصل ہوتی ہے۔ اس میں موجود کیلشیم اور وٹامنز دودھ کی پیداوار بڑھانے میں خاصے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ برسیم کا تعلق چونکہ پھلی داراجناس (Leguminoseae Family)سے ہے۔ اس لیے قدرت نے اس میں ہوا میں موجود نائٹروجن کو فکس (Fix) کرنے اور پھراپنے اور بعد میں آنے والی فصلوں کے استعمال کے قابل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ برسیم ایک دوہری افادیت والی فصل ہے جو چارہ کے ساتھ ساتھ دوسری فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے۔ چاول کے علاقے جس میں گوجرانوالہ ڈویژن قابل ذکر ہے کاکراپنگ سسٹم (Cropping System)چاول اور گندم ہے جو زمینوں کی ذرخیزی کم کر دیتاہے (Exhausative)۔ ایسے میں اگر برسیم کی فصل کو کراپنگ سسٹم میں شامل کر لیا جائے تو چارے کے علاوہ زمین کی ذرخیزی کو بھی بڑھایاجا سکتا ہے۔