Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 1 ستمبر تا15ستمبر2014ء
Date 2014-09-01 - 2014-09-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
1 ستمبر تا15ستمبر2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
-1 ستمبرکامہینہ کپاس کی فصل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ موسمی حالات پر نگاہ رکھیں۔ اس کے مطابق آبپاشی اوردوسرے امور سرانجام دیں۔ بارش کی صورت میں اگر زائد پانی کھیت میں کھڑا ہو جائے تو اس کی نکاسی کا بندوبست کریں۔
-2 ستمبر میں رس چوسنے والے کیڑے مثلاً چست تیلہ، سست تیلہ، سفید مکھی اور تھرپس تیز ی سے افزائش نسل کرتے ہیں اور رس چوس کر فصل کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ستمبر میں ان کے ساتھ ہی سنڈیوں کا حملہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کی ہدایات کے مطابق ایسی زرعی ادویات استعمال کریں جو ان دونوں قسم کے کیڑوں کو تلف کر دیں۔لیکن ان کے استعمال سے پہلے پیسٹ سکاؤٹنگ کے ذریعے معاشی حد نقصان معلوم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
-3 امسال وائرس کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے ۔ کاشتکاربھائیوں سے گزارش ہے کہ درج ذیل سفارشات پر عمل کر کے وائرس کے ممکنہ حملے سے فصل کپاس کو بچائیں۔
(i) کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں بڑھی ہوئی فصل میں جڑ ی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گلائفوسیٹ(Glyphosate)کا سپرے محکمہ زراعت توسیع کے مشورہ سے نہایت احتیاط سے کریں تاکہ فصل کو کوئی نقصان نہ ہو۔
(ii) کپاس کے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً سفید مکھی کو کنٹرول کریں۔
(iii) متاثرہ فصل کے لیے کھاد اور پانی کے استعمال پر خصوصی توجہ دیں۔فصل کو ہلکی آبپاشی مناسب وقفہ سے جاری رکھیں۔
(iv) فصل کو سفارش کردہ کھادوں کی مقدار دینے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو 2فیصد یوریاصرف ایک دفعہ یا 2فیصد پوٹاشیم نائٹریٹ100لٹرپانی میں کم از کم تین سپرے ہفتہ کے وقفہ سے یا اس کے علاوہ کسی مستندمائیکرونیوٹری اینٹ کا سپرے کریں۔
-4 بارش/سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھیتوں میں کھڑے پانی کو نکالنے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے لیے کھیتوں کے اردگرد چھوٹے تالاب یا کھالیاں بنائیں۔
-5 جہاں فصل پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے کمزور حالت میں ہے وہاں فصل پر گروتھ پروموٹر سپرے کریں۔
-6 چنائی شروع کرنے کاموزوں ترین وقت صبح9:00بجے کے بعد شروع ہوتاہے۔ جس وقت فصل اورٹینڈوں پر سے رات کی شبنم خشک ہوجائے تاکہ کپاس بدرنگ نہ ہونے پائے اور نمی کی وجہ سے جننگ کے دوران مشکلات کاسامنا بھی نہ ہو۔ شام 4:00بجے چنائی بند کر دینی چاہیے۔
-7 چنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے سے پکے ہوئے ٹینڈوں سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کوچنائی کرتے جائیں تاکہ پودے کے سوکھے پتے چنی ہوئی کپاس میں شامل نہ ہوں۔چنائی کرتے وقت ٹینڈوں سے کپاس کو اچھی طرح نکال لینا چاہیے۔
-8 چنائی کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا(جھولی) سوتی ہونا چاہیے اور چنی ہوئی پھٹی کو صاف اور خشک سوتی کپڑے پر رکھا جائے اورا س کے بعد صاف اونچی اور خشک جگہ پر اکٹھا کیا جائے تاکہ پھٹی آلودگی سے محفوظ رہ سکے۔
-9 چنی ہوئی کپاس میں نمی، کچے ٹینڈوں ،کھوکھڑی، رسیاں، سوتلی، بال وغیرہ ہر گز شامل نہ ہونے دیں۔ گودام میں لے جانے سے پہلے یہ تمام اشیاء ہاتھ سے چن کر نکال دیں۔
-10 چنائی کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنے سر کو اچھی طرح کپڑے سے ڈھانپ کر چنائی کریں تاکہ اس میں انسانی بالوں کی آمیزش نہ ہو۔
-11 چنائی کے بعد پھٹی کو ایک دو دھوپ ضرور لگوائیں تاکہ نمی کومناسب سطح پر لایا جا سکے۔بارش کے دنوں میں چنائی نہ کریں بلکہ جب کپاس سوکھ جائے تو چنائی کریں۔بی ٹی اور غیر بی ٹی اقسام کی روئی کو الگ الگ رکھیں۔
دھان:
-1 اگر پتوں پر سیاہی مائل بھورے دھبے نظر آئیں جو بعد میں زنگ آلود دکھائی دیں تو یہ زنک کی کمی کی علامت ہے۔ ایسی صورت میں منتقلی کے 30دن بعد سوکا کریں۔ زیادہ کمی کی صورت میں 10کلوگرام زنک سلفیٹ (21فیصد)کاکھڑے پانی میں چھٹہ دیں۔
-2 اگر کھیت میں پتہ لپیٹ اورتنے کی سنڈی کا حملہ نظر آئے تو پیسٹ سکاؤٹنگ کے بعد اس کی معاشی حد نقصان کو مدنظر رکھ کر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زرعی ادویات کا استعمال کریں۔
-3 بکائنی کا حملہ نظر آئے تو متاثرہ پودوں کو فوراً نکال کر تلف کریں۔
-4 دھان کے بھبکا سے بچاؤ کے لیے گوبھ سے لیکر دانہ بننے تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں۔
کماد:
-1 کانگیاری سے متاثرہ پودے نکال کر زمین میں دبا دیں۔ جن کھیتوں میں کانگیاری اور رتہ روگ کا حملہ ہو تو ان کو مونڈھی فصل کے لیے نہ رکھیں اور نہ ہی اس کا بیج آئندہ فصل کے لیے رکھیں اور نہ ہی وہاں آئندہ سال کماد کاشت کیا جائے۔
-2 چار چار پودوں کو آپس میں ملا کر باندھ دیا جائے تا کہ خراب موسم میں فصل نہ گرے۔
-3 ستمبر کاشت کے لیے زمین کو اچھی طرح تیا ر کریں۔ نیز محکمہ کی سفارش کردہ اقسام کاشت کریں۔
-4 کماد کے کچھ علاقوں میں گڑوؤں کا حملہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس کے لیے فصل کا معائنہ کرتے رہیں اور معاشی حد کے تعین کے بعد زرعی زہروں کا استعمال کریں۔
اگیتی تیارہونے والی اقسام:
سی پی77-400، سی پی ایف 237-، ایچ ایس ایف240-، ایچ ایس ایف242- اورسی پی ایف243۔
درمیانی تیارہونے والی اقسام:
ایس پی ایف 213-، ایس پی ایف234-، ایس پی ایف245-،سی پی ایف 246-اورسی پی ایف 247-۔
نوٹ: ایس پی ایف 234- صرف راجن پور ، بہاولپور اور رحیم یار خاں کے اضلاع کے لیے موزوں ترین قسم ہے۔
پچھیتی تیارہونے والی اقسام:
سی او جے84-
ممنوعہ اقسام:
ٹرائی ٹان، سی او ایل 54،سی او1148(انڈین)، سی او ایل 29،سی او ایل 44، بی ایل 4،ایل 116، ایل 118، ایس پی ایف 238اور بی ایف 162۔
مکئی:
-1 پودوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں تاکہ فصل گرنے سے محفوظ رہے۔
-2 کھاد کی دوسری قسط بحساب ایک بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔
-3 موسمی حالات کے مطابق ہر سات دن بعد پانی لگائیں۔
-4 فصل سے جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
-5 تنے کی سنڈی کے حملہ کی صورت میں دانے دار زہروں کو کونپلوں میں ڈالیں اور پانی لگا دیں۔
سبزیات:
-1 آلو کی کاشت کے لیے صحت مند بیج کا بندوبست کریں تاکہ بوقت کاشت پریشانی نہ ہو۔ اس کے لیے زمین کی تیاری،کھاد،مزدور اور مشینری کا انتظام بھی بروقت ہونا چاہیے۔
-2 سرخ مرچ کی برداشت جاری رکھیں۔
-3 بیج کے لیے اگیتی، تندرست اور خوشنما مرچ کا انتخاب کریں۔برداشت کردہ مرچوں کو ڈھیر کی شکل میں نہ رکھیں۔
4۔ مولی، گاجر اور شلجم کی اگیتی فصل کاشت کریں۔مولی، شلجم اور گاجر کا بیج بالترتیب 4،1اور 5کلو گرام فی ایکٹر کے حساب سے استعمال کریں۔
-5 مولی ، شلجم کو کھیلیوں میں کاشت کریں۔ کھیلیوں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں،بے موسمی سبزیات کی کاشت کے لیے محکمہ زراعت سے ٹنل ٹیکنالوجی بارے مشورہ کریں۔
باغات:
آم :
-1 پچھیتی اقسام کی برداشت جاری رکھیں۔
-2 شاخ تراشی کریں۔ نئے پودے لگائیں اور ناغے پر کریں۔
-3 ستمبر میں ایک آبپاشی ضرور کریں۔ جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔
-4 تیلہ،جوؤں اور سکیلز کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کریں ۔چھال کی بیماری اور منہ سٹری کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب زہروں کا سپرے کریں۔
-5 جڑی بوٹی مار زہروں کا انتظام کریں۔
ترشاوہ پھل :
-1 اس موسم میں پھل کی بڑھوتری کا عمل جاری رہتا ہے او ر نئے شگوفے نکلتے ہیں ۔ یوریا کھاد کی تیسری قسط اگر نہ ڈالی گئی ہوتوماہ ستمبر میں ڈال دیں۔
-2 میٹھے کو 1کلویوریا فی پودا ڈالیں۔
-3 آبپاشی کا وقفہ پندرہ دن رکھیں۔
-4 کیڑوں اور بیماریوں کو معائنہ کرنے کے بعد محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب تدارک کیا جائے۔
-5 کچے گُلے ختم کریں۔ پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں۔ نئے پودے لگانے سے پہلے کھیت کے اوپر کی مٹی، بھل اورگوبر کی گلی سڑی کھاد سب برابر مقدار
میں ڈال کر بھر دیں اور پانی لگا کر ہموار کریں۔