Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16مارچ تا 31 مارچ 2014ء
Date 2014-03-16 - 2014-03-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16مارچ تا 31 مارچ 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم:
* گندم پر سست تیلہ کے حملے کی صورت میں زرعی زہریں ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ ان کے اثرات اچھے نہیں ہوتے۔ جن میں ماحول کا آلودہ ہونا، صحت کے مسائل اور مفید کیڑوں کا ختم ہونا شامل ہے۔ تیلہ کے شدید حملہ کی صورت میں ٹھنڈے پانی کا سپرے کریں ۔تیز بارش کی وجہ سے بھی گندم میں سست تیلہ کی تعداد کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔
* گندم کو آخری آبپاشی مارچ کے تیسرے ہفتہ تک مکمل کریں۔
* کانگیاری سے متاثرہ پودوں کو نکالنے کے لیے باقاعدہ فصل کا معائنہ جاری رکھیں۔ بیمار پودوں کو نکال کر زمین میں دبا دیں تاکہ جرثومے کھیت میں نہ پھیل سکیں ایسے کھیتوں میں آبپاشی کا وقفہ بڑھا دیں۔
* فصل پر چوہوں کے حملے کی صورت میں ان کی تلفی کے لیے زنک فاسفائیڈ کی گولیاں یا ڈیٹیا گیس کی ٹکیاں استعمال کریں۔
* تمام کاشتکاروں کو چاہیے کہ ضرورت کے مطابق گندم کی منظور شدہ نئی اقسام کا خالص بیج اپنی کاشتہ فصل سے خود پیدا کریں۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل سفارشات پر عمل کریں۔
(i) منتخب کھیت میں سے غیر اقسام کے پودوں کو نکال دیں۔
(ii) کاشتہ فصل سے جڑی بوٹیوں کے علاوہ کانگیاری والے تمام پودے کاٹ کر شاپر میں ڈال کر دبا دیں۔
کپاس:
* کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری اس طرح کی جائے کہ کھیت ہموار، زمین نرم اور بھربھری ہو۔
* کپاس کی منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
بی ٹی اقسام:
* کپا س کی بی ٹی اقسام آئی آر3701، علی اکبر 802-، آئی ار1524-،جی این ہائبرڈ2085 (15اپریل سے 15مئی ) ، نیلم 121- (15 مارچ تا 30اپریل)، ایم جی 6- (یکم اپریل تا 15مئی)، علی اکبر 703-(15مارچ تا 15اپریل)، ستارہ008-(15 مارچ تا 15مئی)تک کاشت کریں۔
* اس کے علاوہ حسب ذیل 15بی ٹی اقسام بھی مشروط طور پر منظور کی گئیں ہیں۔جن میں ٹارزن1-،ایم این ایچ886، وی ایچ 259، بی ایچ178، سی آئی ایم 599، سی آئی ایم602، ایف ایچ 118،ایف ایچ142، آئی آر نیاب824، آئی یو بی 222، سائبان 201، ستارہ 11ایم، اے 555، کے زید181اور ٹارزن2- کی کاشت (15مارچ تا15مئی) تک کریں۔
* بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
* شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
* اگیتی کاشت کے لیے 161کلو گرام نائٹروجن، 46تا70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فاسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت، 1/6حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن کھاد ایک پانی چھوڑ کر اگلے پانی پر ڈالتے جائیں۔
کماد:
* کماد کی صحت مند پرورش کے لیے گوڈی/ نلائی بہت ضروری ہے اس سے جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جاتی ہیں اور زمین نرم ہونے سے فصل کی جڑیں خوب پھیلتی ہیں۔ پہلی گوڈی اگاؤ مکمل ہونے پر جب کہ دوسری گوڈی مزید ایک ماہ بعد کرنی چاہیے ہر گوڈی میں ایک بار وتر اور دوسری بار خشک ہل چلائیں۔ سیاڑوں کے درمیان بذریعہ کلٹیویٹر جب کہ پودوں کے درمیان میں سے جڑی بوٹیاں نکالنے کے لیے کسولہ یا کھرپہ استعمال کریں۔
بہاریہ مکئی:
* بہاریہ مکئی کی کاشت راولپنڈی ڈویژن (ماسوائے پہاڑی علاقے) آخر فروری تا 20مارچ تک مکمل کریں۔
* ڈرل سے کاشتہ مکئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے چھدرائی بہت ضروری ہے ۔کمزور اور بیمار پودے نکال کر پودوں کا درمیانی فاصلہ 6 تا7 انچ رکھیں۔ پودوں کی تعداد 34 تا 40 ہزار فی ایکڑ ہونی چاہیے۔
* پہلی آبپاشی بوائی کے 25 تا 30 دن بعد کریں ۔پھر فصل کی حالت کے مطابق ضرورت کے وقت پانی دیں۔
* بہاریہ مکئی پر کونپل کی مکھی کا حملہ ہوتا ہے فصل اگنے کے ایک ماہ بعد کیمیائی طریقہ انسداد کے لیے دانہ دارزہروں کا انتخاب اور استعمال ہمیشہ محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے کریں۔
بہاریہ سورج مکھی:
* اگاؤ کے بعد جب فصل چار پتے نکال لے تو کمزور اور فالتو پودے اس طرح نکال دیں کہ پودوں کا باہمی فاصلہ آبپاش علاقوں میں تقریباً 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رکھیں۔
* ڈرل سے کاشتہ فصل کو پہلا پانی لگانے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ گوڈی ضرور کریں۔ اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں اور زمین میں ہوا کی آمدورفت بہتر ہو جاتی ہے۔
* فصل کو پہلا پانی روئیدگی کے 20 دن بعد لگائیں۔
بہاریہ مونگ:
* مونگ کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ سے آخر مارچ تک کی جا سکتی ہے البتہ مارچ کا پہلا پندھرواڑہ اس کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔
* اچھی پیداوار کے حصول کے لیے آبپاش علاقوں میں منظورشدہ اقسام نیاب مونگ 2006- ، ازری مونگ 2006- اورنیاب مونگ 2011 جبکہ بارانی علاقوں میں چکوال ایم 6-کاشت کریں۔
* شرح بیج 10تا 12کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔
* جس کھیت میں مونگ پہلی دفعہ کاشت کی جا ئے اس کے بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے فصل کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
* بجائی ہمیشہ تر وتر حالت میں کریں تاکہ اُگاؤ بہتر ہو۔ بجائی قطاروں میں کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ رکھیں اور پودوں کاآپس میں درمیانی فاصلہ چار انچ ہونا چاہیے۔
* مونگ کے لیے ایک بوری ڈی اے پی + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ بجائی سے پہلے آخری ہل کے بعد چھٹہ کر کے سہاگہ دیں۔
مونگ پھلی:
* مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری جاری رکھیں۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
* زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں مارچ تا اپریل میں کرنی چاہیے۔
* مونگ پھلی کی اقسام باری 2000، بارڈ479، گولڈن اور باری2011 کاشت کریں۔
* شرح بیج 70 کلو گرام پھلیاں یا 40 کلو گرام گریاں فی ایکڑ (5 کلو گرام گریاں فی کنال) ڈالیں تاکہ پودوں کی مطلوبہ تعداد 50 تا 60 ہزار فی ایکڑ حاصل ہو سکے۔
* مونگ پھلی کے لیے موزوں ترین وقت کاشت مارچ کے آخری ہفتہ سے لے کر اپریل کے اواخر تک ہے مونگ پھلی کے بیج کو اگاؤ کے لیے 25 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت درکار ہوتا ہے لیکن وتر کی کمی کے پیش نظر اسے 25 مارچ سے 31 مئی تک کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔
* مونگ پھلی کی کاشت ہمیشہ بذریعہ پور یا ڈرل قطاروں میں کی جائے۔ بیج کی گہرائی 5 تا 7 سینٹی میٹر ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 تا 20 سینٹی میٹر رکھیں۔ مونگ پھلی کو بذریعہ چھٹہ ہرگز کاشت نہ کریں۔
* پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے مونگ پھلی اپنی ضرورت کی 80 فیصد نائٹروجن فضا سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے البتہ نشوونما کے لیے کاشت کے وقت ایک بوری ڈی اے پی 228 189 بوری پوٹاشیم سلفیٹ 6+کلوگرام یوریافی ایکڑ ضرور ڈالیں۔
سبزیات:
* موسم سرما کی کاشتہ سبزیات کی آبپاشی کا خیال رکھیں ۔
* موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، کالی توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
* سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھے نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میں ملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔
* بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ۔ کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہوں اور بیج کاشرح اُگاؤ 80فیصد سے کم نہ ہو۔
* ٹماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کریں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوں جانب کریں۔
باغات:
ترشاوہ پھل
* جن پودوں کا پھل برداشت کر لیا گیا ہے ان پودوں کے درمیان ہل چلائیں۔
* مختلف اقسام کی ترشاوہ پھلوں کی پیوندکاری کریں۔ گرے ہوئے بیمار پھل زمین میں دبا دیں۔
* پھل آنے پر آخری ہفتہ میں ایک آبپاشی کریں۔
* باغات اور نرسری کو رس چوسنے والے کیڑوں مثلاً سٹرس سلا، سفید مکھی، پھل کی مکھی اور لیف مائنر کے خلاف سپرے کریں۔پھل کی مکھی کے انسداد کے لیے جنسی پھندے لگائیں۔
آم:
* آم کے باغات میں بٹور والے پھولوں کو خشک ہونے سے پہلے سبز حالت میں کاٹ کر تلف کریں۔
* مکمل پھول آنے پر یوریا کھاد ایک کلوگرام فی پودا ڈالیں۔
* پھل آنے پر آبپاشی اشد ضروری ہے۔ آبپاشی کا وقفہ 20دنوں کا رکھیں جس کاانحصار موسم کی کیفیت پر ہے۔
* سفوفی پھپھوندی کے خلاف سپرے کریں۔ پھپھوندی کش زہروں کا باقاعدہ استعمال 10 سے 14 دن کے وقفہ سے کریں۔