Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 تا30نومبر2013ء
Date 2013-11-16 - 2013-11-30
Advisory Content

ڈاکٹرمحمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
(1)گندم:
* گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے گندم کی کاشت کا موزوں ترین وقت یکم تا 15نومبر ہے۔ پندرہ نومبر کے بعد کاشت کی گئی گندم کی پیداوار میں بتدریج کمی آناشروع ہو جاتی ہے۔
* 15نومبر تک بوائی کے لیے شرح بیج 50کلوگرا م فی ایکڑ رکھیں جبکہ 16نومبر تا 15دسمبر تک بوائی کے لیے شرح بیج 60کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
* گندم کی مختلف بیماریوں میں کانگیاری، کرنال بنٹ اور اکھیڑا وغیرہ کے تدارک کے لیے بیج کوبوائی سے پہلے مقامی محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے زہر لگائیں۔
* صرف منظور شدہ اقسام ہی کاشت کریں۔ بارانی علاقوں کے لیے سفارش کردہ اقسام این اے ار سی 2009، بارس2009 ، دھرابی 2011 اورچکوال 50کو 15نومبرتک کاشت کریں۔
* کم بارش والے علاقوں میں ایک بوری ڈی اے پی ، 190بوری یوریا اور189 بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
* اوسط بارش والے علاقوں میں دو بوری ڈی اے پی، 1بوری یوریا اور189بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔جن علاقوں میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں2 بوری ڈی اے پی ، 1188 بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔
* آبپاش علاقوں میں گندم کی فی ایکڑزیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے اس کی بروقت کاشت ضروری ہے۔ اس کے لیے کپاس، مکئی اور کماد کو کٹائی سے 15سے20دن پہلے پانی لگانا بند کریں اور کٹائی کے بعد وتر میں ایک مرتبہ روٹا ویٹر اور دو مرتبہ دوہرا ہل چلا کر سہاگہ دیں اورڈرل سے بوائی کریں۔
* دھان کے علاقے میں دھان کی برداشت کے بعد ایک مرتبہ روٹاویٹر یا دو دفعہ ڈسک ہل چلائیں اس کے بعد عام ہل چلا کر سہاگہ دیں اور ڈرل سے بوائی کریں۔
* وریال زمینوں میں چار پانچ دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں اس سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے علاوہ فصل کو غذائی اجزاء قابل حصول حالت میں مل جاتے ہیں۔آخری تیاری کے لیے بھاری میرا زمین میں دو بار ہل اورسہاگہ جبکہ ہلکی میر ا زمین میں ایک بارہل اور سہاگہ کافی ہوتا ہے۔
* آبپاش علاقوں میں محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام آری 2011 ، آس 2011، ملت2011،پنجاب 2011 ، سحر 2006، لاثانی 2008-، فیصل آباد 2008-اوراین اے آر سی2011 کاشت کریں۔بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈپوؤں یا مستند ڈیلروں سے حاصل کریں۔
* اگر گھر کا بیج ہو تو اسے مقامی زراعت آفیسر (توسیع) کے دفتر سے مفت گریڈ کروائیں اور بیج کو زہر لگانے کے بعد کاشت کریں۔
نوٹ: سحر 2006ء بیماری سے متاثر ہ ہے۔اس لیے اسے کم سے کم رقبہ پر کاشت کریں۔
* جڑی بوٹیوں کے مؤثر تدارک کے لیے داب کا طریقہ استعمال کریں۔
* آبپاش علاقوں میں اگر زمین کمزور ہے تو 2بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔ اوسط زمین میں1189 بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت استعمال کریں۔جبکہ زرخیز زمین کے لیے ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اورایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔
(2)دھان:
* دھان کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت پر کٹائی اور پھنڈائی بہت ضروری ہے۔کٹائی کا مناسب وقت وہ ہے کہ جب دانوں میں 22-20فیصد نمی ہو۔ زیادہ نمی ہونے کی صورت میں چاول زیادہ ٹوٹتا ہے اور ذخیرہ کرنے کے دوران بیماریوں کے حملہ کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ جس سے کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔
* بیرون ملک کچھ خریداروں نے پاکستانی چاول کی خرید Aflatoxinکی وجہ سے کم کر دی ہے۔ اس سے بچنے کے ضروری ہے کہ دھان کو 24گھنٹے کے اندر خشک کریں تاکہ اس میں نمی کی مقدار 16فیصد کے قریب رہے تاکہ چھڑائی کے دوران دانے ٹوٹنے نہ پائیں۔۔
* اگر فصل کمبائن سے کٹوانی ہو تو ایسی کمبائن استعمال کریں جس میں دھان کی کٹائی کے لیے ایڈجسٹمنٹ ہو تاکہ دانے کم ٹوٹیں کیونکہ عام کمبائن گندم کی کٹائی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور دھان کی کٹائی میں دانے بہت ٹوٹتے ہیں۔
* کٹائی کے دوران کمبائن کی رفتار آہستہ رکھیں اور فصل کو نسبتاً اونچا کاٹیں اس طرح دانے کم ٹوٹتے ہیں۔
* مونجی کی برداشت میں دیر کرنے سے دانوں کے جھڑنے اور ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور اس پر کیڑوں ، پرندوں ، چوہوں اور پیسٹ کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
(3)کپاس:
کپاس کی چنائی جاری رکھیں۔
-1 چنائی صبح دس بجے کے بعد شروع کریں تاکہ پتوں پر سے شبنم کے قطرے سوکھ جائیں۔
-2 صرف اچھی طرح کھلے ہوئے ٹیندوں سے چنائی کریں۔دو چنائیوں کا درمیانی وقفہ کم از کم 20-15دن ہو تاکہ غیر معیاری اور کچا ریشہ حاصل نہ ہو۔
-3 چنی ہوئی کپاس خشک جگہ پر رکھیں اور ہر قسم کی کپا س کو علیحدہ علیحدہ رکھیں۔
-4 کپاس کے ڈھیر 100من سے زیادہ نہ ہوں۔صاف کپاس حاصل کرنے کے لیے چنائی والی عورتیں سرپر سوتی کپڑا لیں اور بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں۔
-5 چنائی کے لیے سوتی کپڑے استعمال کریں۔سلائی کے لیے سوتی ڈوری استعمال کریں۔پھٹی کو سوتی بوروں میں بھریں۔ پٹ سن یا پولی پراپلین کے بورے ہرگز استعمال نہ کریں۔فیکٹری تک پھٹی لے جانے والی ٹرالیوں کو سوتی کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ لیں۔
-6 چنائی پودے کے نچلے حصے سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کو چنائی کرتے جائیں۔
-7 پھٹی کو گیلی اور سایہ دار جگہ پر نہ رکھیں بلکہ دھوپ میں خشک جگہ پر سوتی کپڑا یا ترپال بچھا کر اس پر رکھیں۔
(4)کماد:
-1 فصل کی کٹائی زمین سے ایک انچ گہرا کریں اس سے زیر زمین پوریوں پر موجود آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔ نیچے سے کاٹنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مونڈھوں میں موجود گڑوؤں کی سنڈیاں تلف ہو جاتی ہیں۔
-2 کماد کی کٹائی گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مد نظر رکھ کر کریں۔پہلے ستمبر کاشت، مونڈھی فصل اور اگیتی پکنے والی اقسام برداشت کریں اس کے بعد درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام برداشت کریں۔
-3 سیلاب ، چوہے کے حملے اور گرنے کی صورت میں متاثرہ فصل کو پہلے کاٹیں ۔ گنا کاٹنے سے 30-25دن پہلے آبپاشی دینا بند کردیں۔
-4 گنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کر دیں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔
-5 مونڈھی فصل رکھنے کے لیے فصل کو پندرہ جنوری کے بعد کاٹیں۔
-6 جن کھیتوں میں مونڈھی فصل نہ رکھنی ہو اس کھیت کو فوراً تیار کر کے گندم کی کاشت کریں تاکہ گندم کی 15کلوگرام فی دن پیداوار کی کمی سے بچاجا سکے۔
(5) چنا:
-1 جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گوڈی کریںیا ان کے مکمل تدارک کے لیے کیمیائی زہروں کا استعمال محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کرکے استعمال کریں۔
-2 فصل کا معائنہ کرتے رہیں اگر فصل پر ٹوکے کا حملہ نظر آئے تومحکمہ زراعت سے مشورہ کے بعد سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔
(6)مسور:
-1 مسور کی کاشت جلد از جلد مکمل کریں۔ زیادہ پچھیت ہونے کی صورت میں پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ شرح بیج 10تا12کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔
-2 مسور کی ترقی دادہ اقسام مسور93-، نیاب مسور2006- ،نیاب مسور 2002-، پنجاب مسور 2009-اورچکوال مسور کاشت کریں۔
-3 ایک بوری ڈی اے پی یا ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ اور 189بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔
(7) چارہ جات:
برسیم کی کاشت جلداز جلد مکمل کریں۔ کاشت کے لیے شرح بیج 8کلوگرام فی ایکٹر رکھیں اور ایک بوری ڈی اے پی +ایک بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکٹر بوقت کاشت ڈالیں۔
-1 لوسرن کی کاشت کے لیے شرح بیج 6-5کلو گرام فی ایکٹر رکھیں۔ ایک بوری ڈی اے پی +ایک بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکٹر ڈالیں۔
-2 برسیم اور لوسرن کے بیج کو بوائی سے پہلے جراثیمی ٹیکہ لگائیں یا پچھلے سال کاشتہ برسیم ؍لوسرن کے کھیت سے 20تا40کلوگرام مٹی لاکر کھیت میں مکس کردیں۔
(8)سبزیات:
-1 آلو کی فصل کا معائنہ کرتے رہیں۔بیماری یا کیڑے کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے مشورہ سے بروقت سپرے کریں اور آبپاشی کا خیال رکھیں۔
-2 پیاز کی پنیری کی کاشت آخر نومبر تک مکمل کریں۔
-3 پیاز کا 3کلو گرام بیج فی ایکٹر استعمال کریں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
-1 ٹنل ٹیکنالوجی میں لگائی جانے والی سبزیات مثلاً ٹماٹر اور شملہ مرچ کی پنیری کی دیکھ بھال کریں۔
-2 ٹنل میں براہ راست کاشت کی گئی سبزیات مثلاًکھیرا، گھیاکدو کا معائنہ کریں اور بیماری یا کیڑے کے حملہ کی صورت میں مقامی محکمہ زراعت (توسیع) یا فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے عملہ سے رابطہ کریں۔
(9)باغات:
چھوٹے پودوں کوآئندہ سردی سے بچانے کے لیے ان پر سایہ کریں۔باغات میں بوٹی مار زہروں کا سپرے کریں۔پودوں کے تنوں پر بورڈو پیسٹ لگائیں۔ نئے پودے لگائیں۔
ترشاوہ باغات:
-1 جلد پکنے والی اقسام کے پھل توڑنے کے لیے تیاری کریں۔
-2 جلد پکنے والی اقسام فیوٹرل ارلی۔مسمی اور گریپ فروٹ کی برداشت کریں۔
-3 حسب ضرورت آبپاشی کریں۔
-4 درمیانے موسم میں پکنے والی اقسام کی فروخت کا انتظام کریں۔ گوبر کی کھاد کا انتظام کریں۔
آم کے باغات:
-1 زمین اور پتوں کا تجزیہ کروائیں۔
-2 آم کی گدھیڑی کے لیے کیڑے مار زہروں اور حفاظتی بند لگانے کا انتظام کریں۔