Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم نومبر تا 15نومبر2013ء
Date 2013-11-01 - 2013-11-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم نومبر تا15نومبر2013ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور

گندم:
* گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے گندم کی کاشت کا موزوں ترین وقت یکم تا20نومبر ہے۔ پندرہ نومبر کے بعد کاشت کی گئی گندم کی پیداوار میں بتدریج کمی آناشروع ہو جاتی ہے۔
* 20نومبر تک بوائی کے لیے شرح بیج 50کلوگرا م فی ایکڑ رکھیں جبکہ 21نومبر تا 15دسمبر تک بوائی کے لیے شرح بیج 60کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
* گندم کی مختلف بیماریوں میں کانگیاری، کرنال بنٹ اور اکھیڑا وغیرہ کے تدارک کے لیے بیج کوبوائی سے پہلے مقامی محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے زہر لگائیں۔
* صرف منظور شدہ اقسام ہی کاشت کریں۔ بارانی علاقوں کے لیے سفارش کردہ اقسام این اے آر سی 2009،دھرابی2011، بارس2009 اورچکوال 50کو 15نومبرتک کاشت کریں۔
* کم بارش والے علاقوں میں ایک بوری ڈی اے پی ، 190بوری یوریا اور189 بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
* اوسط بارش والے علاقوں میں دو بوری ڈی اے پی،سوابوری یوریا اورآدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔جن علاقوں میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں دو بوری ڈی اے پی ،سوا بوری یوریا اورآدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔
* آبپاش علاقوں میں گندم کی فی ایکڑزیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے اس کی بروقت کاشت ضروری ہے۔ اس کے لیے کپاس، مکئی اور کماد کو کٹائی سے 15سے20دن پہلے پانی لگانا بند کریں اور کٹائی کے بعد وتر میں ایک مرتبہ روٹا ویٹر اور دو مرتبہ دوہرا ہل چلا کر سہاگہ دیں اورڈرل سے بوائی کریں۔
* دھان کے علاقے میں دھان کی برداشت کے بعد ایک مرتبہ روٹاویٹر یا دو دفعہ ڈسک ہل چلائیں اس کے بعد عام ہل چلا کر سہاگہ دیں اور ڈرل یاپور سے بوائی کریں۔
* وریال زمینوں میں چار پانچ دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں اس سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کے علاوہ فصل کو غذائی اجزاء قابل حصول حالت میں مل جاتے ہیں۔آخری تیاری کے لیے بھاری میرا زمین میں دو بار ہل اورسہاگہ جبکہ ہلکی میر ا زمین میں ایک بارہل اور سہاگہ کافی ہوتا ہے۔
* آبپاش علاقوں میں محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام سحر 2006،شفق 2006، فرید2006، پاسبان 90، معراج 2008-، لاثانی 2008-، فیصل آباد 2008-،آس 2011، ملت2011، پنجاب 2011،آری 2011اوراین اے آر سی 2011 کاشت کریں۔بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈپوؤں یا مستند ڈیلروں سے حاصل کریں۔
* اگر گھر کا بیج ہو تو اسے مقامی زراعت آفیسر (توسیع) کے دفتر سے مفت گریڈ کروائیں اور بیج کو زہر لگانے کے بعد کاشت کریں۔
نوٹ: سحر 2006،بیماری سے متاثر ہ ہے۔اس لیے اس کو کم سے کم رقبہ پر کاشت کریں۔
* جڑی بوٹیوں کے مؤثر تدارک کے لیے داب کا طریقہ استعمال کریں۔
* آبپاش علاقوں میں اگر زمین کمزور ہے تو 2بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔ اوسط زمین میں1189 بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت استعمال کریں۔جبکہ زرخیز زمین کے لیے ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اورایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔

چنا:
* آبپاش علاقہ جات میں کاشت 15نومبر تک جاری رکھیں ۔ صحت مند اورخالص بیج اچھی فصل کی بنیاد ہے۔ محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام کاشت کریں۔ شرح بیج 30تا35کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
* فصل کا معائنہ کرتے رہیں اگر فصل پر ٹوکے کا حملہ نظر آئے تو سفارش کردہ زہر وں کا استعمال کریں۔
* جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں۔
روغندار اجناس:
کینولہ اقسام کی بوائی جلد از جلد مکمل کریں۔کاشت تروتر میں کریں۔ بیج 2انچ سے زیادہ گہرائی پر کاشت نہ کریں۔ شرح بیج 2تا2189کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔

مسور:
* مسور کی کاشت 15نومبرتک جلد از جلد مکمل کریں۔ زیادہ پچھیت ہونے کی صورت میں پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ شرح بیج 10تا12کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
* محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام مسور93، نیاب مسور 2002، نیاب مسور 2006 ، پنجاب مسور 2009 ، چکوال مسوراور مرکز2009 کاشت کریں۔
* ایک بوری ڈی اے پی یا ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ + 189بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں۔
* ستمبرکاشتہ کماد میں بھی مسور کی مخلوط کاشت اچھے نتائج کی حامل ہے۔مخلوط کاشت کے لیے 5تا6کلوگرام بیج کافی ہوتا ہے ۔ اس طرح ستمبر کاشتہ کماد میں مسور کی 10سے 12من فی ایکڑپیداوار حاصل کی جاسکتی ہے اور کماد کی پیداوار پر بھی اچھی اثر پڑتا ہے۔

دھان:
* دھان کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت پر کٹائی اور پھنڈائی بہت ضروری ہے۔کٹائی کا مناسب وقت وہ ہے کہ جب دانوں میں 22-20فیصد نمی ہو۔ زیادہ نمی ہونے کی صورت میں چاول زیادہ ٹوٹتا ہے اور ذخیرہ کرنے کے دوران بیماریوں کے حملہ کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ جس سے کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔
* بیرون ملک کچھ خریداروں نے پاکستانی چاول کی خرید Aflatoxinکی وجہ سے کم کر دی ہے۔ اس سے بچنے کے ضروری ہے کہ دھان کو 24گھنٹے کے اندر خشک کریں تاکہ اس میں نمی کی مقدار 16فیصد کے قریب رہے تاکہ چھڑائی کے دوران دانے ٹوٹنے نہ پائیں۔۔
* اگر فصل کمبائن سے کٹوانی ہو تو ایسی کمبائن استعمال کریں جس میں دھان کی کٹائی کے لیے ایڈجسٹمنٹ ہو تاکہ دانے کم ٹوٹیں کیونکہ عام کمبائن گندم کی کٹائی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور دھان کی کٹائی میں دانے بہت ٹوٹتے ہیں۔
* کٹائی کے دوران کمبائن کی رفتار آہستہ رکھیں اور فصل کو نسبتاً اونچا کاٹیں اس طرح دانے کم ٹوٹتے ہیں۔
* مونجی کی برداشت میں دیر کرنے سے دانوں کے جھڑنے اور ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور اس پر کیڑوں ، پرندوں ، چوہوں اور پیسٹ کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کپاس:
* کپاس کی چنائی جاری رکھیں،چنائی صبح دس بجے شروع کریں تاکہ پتوں پر سے شبنم کے قطرے سوکھ جائیں۔
* صرف اچھی طرح کھلے ہوئے ٹیندوں سے چنائی کریں۔
* چنی ہوئی کپاس خشک جگہ پر رکھیں اور ہر قسم کی کپا س کو علیحدہ علیحدہ رکھیں۔
* صاف کپاس حاصل کرنے کے لیے چنائی والی عورتیں سر پر سوتی کپڑا لیں۔ بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں۔چنائی کے لیے سوتی کپڑے استعمال کریں۔
* چنائی پودے کے نچلے حصے سے شروع کریں۔
* پھٹی کو گیلی اور سایہ دار جگہ پر نہ رکھیں بلکہ دھوپ میں خشک جگہ پر سوتی کپڑا یا ترپال بچھا کر اس پر رکھیں۔
* پھٹی کو سوتی بوروں میں بھریں ۔پٹ سن یا پولی پراپلین کے بورے ہرگز استعمال نہ کریں۔ فیکٹر ی تک پھٹی لے جانے والی ٹرالیوں کو کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ لیں۔
* آخری چنائی کے بعد کھیت میں جانور کو کھلا چھوڑ دیں تاکہ وہ کھیت میں موجود باقیات کھاجائیں اور ان میں موجود گلابی سنڈی تلف ہو جائے اور بچ جانے والی چھڑیوں کو روٹا ویٹر کے ذریعے زمین میں دبا دیں۔

کماد:
* فصل کی کٹائی زمین سے ایک انچ گہرا کریں اس سے زیر زمین پوریوں پر موجود آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔ نیچے سے کاٹنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مونڈھوں میں موجود گڑوؤں کی سنڈیاں تلف ہو جاتی ہیں۔
* کماد کی کٹائی گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مد نظر رکھ کر کریں۔پہلے ستمبر کاشت، مونڈھی فصل اور اگیتی پکنے والی اقسام برداشت کریں اس کے بعد درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام برداشت کریں۔
* سیلاب ، چوہے کے حملے اور گرنے کی صورت میں متاثرہ فصل کو پہلے کاٹیں ۔ گنا کاٹنے سے 30-25دن پہلے آبپاشی دینا بند کردیں۔
* گنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کر دیں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔
* مونڈھی فصل رکھنے کے لیے فصل کو پندرہ جنوری کے بعد کاٹیں۔
چارہ جات:
* برسیم کی کاشت جاری رکھیں۔ شرح بیج 8کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔ شام کے وقت کاشت کرنے سے برسیم کی فصل کا اگاؤ اچھا ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک بوری ڈی اے پی+ ڈیڑھ بوری ایس ایس پی 18% بوقت کاشت ڈالیں۔
* لوسرن کی کاشت شروع کریں۔ اس کا وقت کاشت 15اکتوبر سے 15نومبر تک ہے۔ شرح بیج5-4کلو گرام فی ایکٹر رکھیں۔ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی فی ایکٹر ڈالیں۔تاکہ متواتر اچھی پیداوار حاصل ہوتی رہے۔
* برسیم اور لوسرن کے بیج کو بوائی سے پہلے جراثیمی ٹیکہ لگائیں۔
* جئی کی کاشت کے لیے شرح بیج 32کلوگرام فی ایکٹر ہے۔ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری یوریااور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکٹر استعمال کریں۔ ایس2000، پی ڈی 2 ایل وی65اورسرگودھا جئی 2011اچھی پیداوار دینے والی اقسام ہیں۔

سبزیات:
* آلو کی کاشت جلد مکمل کریں۔ شرح بیج 1200تا1500کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔ منظور شدہ اقسام ڈیزائری ، کارڈنیل، ڈایامنٹ، فیصل آباد سفید، فیصل آباد سرخ، ایس ایچ 5 کا تصدیق شدہ بیج ہی کاشت کریں۔2188بوری ڈی اے پی،1189بوری یوریا، 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ اور زنک سلفیٹ 21% دس کلوگرامفی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔
* پیاز کی نرسری کی کاشت کا وقت وسط اکتوبر تا آخر نومبر ہے اور کھیت میں پنیری کی منتقلی دسمبر جنوری میں ہوتی ہے۔پیاز کا تین کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں۔ایک یا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔زمین کی اچھی تیاری کریں اور چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنائیں ان کیاریوں میں تین انچ کے فاصلہ پر ایک انچ گہری لائنیں لگا کر بیج کاشت کریں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
* موسم گرما کی اگیتی سبزیاں اگانے کے لیے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ ٹنل ٹیکنالوجی کی عملی تربیت حاصل کریں۔اس مقصد کے لیے محکمہ زراعت(توسیع) یا فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے عملہ سے رابطہ کریں اور سبزیوں کی اگیتی اور زیادہ پیداوار لے کر اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔
* اس وقت ٹنل میں کھیرا اورگھیا کدو کی براہ راست کاشت 25اکتوبر تا 25نومبرتک کی جا سکتی ہے۔

باغات:
ترشاوہ باغات:
* جلد پکنے والی اقسام کے پھل توڑنے کے لیے تیاری کریں۔
* جلد پکنے والی اقسام فیوٹرل ارلی۔مسمی اور گریپ فروٹ کی برداشت کریں۔
* حسب ضرورت آبپاشی کریں۔
* درمیانے موسم میں پکنے والی اقسام کی فروخت کا انتظام کریں۔ گوبر کی کھاد کا انتظام کریں۔
آم کے باغات:
* زمین کا تجزیہ کروائیں اوربعد ازتجزیہ رپورٹ سفارشات پر عمل کریں۔
* آم کی گدھیڑی کے لیے کیڑے مار زہروں اور حفاظتی بند لگانے کا انتظام کریں۔