Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 فروری تا29 فروری 2012ء
Date 2012-02-16 - 2012-02-29
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 فروری تا29 فروری 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
1ـ گندم کو دوسرا پانی گوبھ کے وقت یعنی بوائی کے 80 تا 90 دن بعد لگائیں ۔ اس وقت سٹہ پودے کے اندر بن کر باہر نکلنے کے مراحل میں ہوتا ہے اگر اس مرحلے پر پانی نہ دیا جائے یا تاخیر سے دیا جائے تو سٹے چھوٹے رہ جاتے ہیں اور سٹوں میں دانوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ دوسرے پانی کے ساتھ اگر ضرورت ہو تو آدھی بوری یوریا فی ایکڑ ڈالیں۔
2ـ جہاں کہیں فصل اگر دیر سے کاشت کی گئی ہو اور سفارش کردہ یوریا کی مقدار نہ ڈالی گئی ہو اور فصل کا رنگ پیلا ہو تو دو کلو گرام یوریا 100 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں لیکن بارانی علاقہ جات میں 2کلوگرام یوریا کے ساتھ 2کلوگرام ایس۔او۔پی(سلفیٹ آف پوٹاش)یا ایم۔او۔پی(میوریٹ آف پوٹاش) ضرور شامل کریں۔
کماد
1ـ کماد کی اچھی پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی میرااوربھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔ اس کو مونجی اورکماد کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
2ـ ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو تلف کیا جائے اس کے بعد 8تا10انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کر لیں۔
3ـ گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کو گہری جوتائی اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 8تا10انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔
4 ـ ہمیشہ صحت مند بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا اتنخاب کریں ۔ بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال لیں۔
5ـ لیری(یکسالہ) فصل سے بیج منتخب کریں۔مونڈھی فصل سے بیج نہ لیں۔
6ـ سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہوناچاہیے اس سے دیمک لگنے کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ غلاف اُتارتے وقت آنکھوں کو زخمی نہ ہونے دیں ورنہ اگاؤ کم ہوگا۔
7ـ بیج کو پھپھوندکش زہروں کے محلول میں 3تا5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔
8ـ بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ دو آنکھوں والے 25تا30ہزار یا 100 تا 120 من سمے ڈالنے چاہئیں۔
ترقی داداہ اقسام
9ـ اگیتی اقسام : سی پی ایف243، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242،سی پی 77-400، سی پی 43-33اور سی پی ایف237۔
10ـ درمیانی اقسام : ایس پی ایف213، ایس پی ایف234، ایس پی ایف245، ایس پی ایف246اور سی پی ایف 247-۔
11ـ ـچھیتی اقسام : سی او جے84۔
نوٹ: غیر منظور شدہ اورممنوعہ اقسام بی ایف 162، ٹرائیٹان ، سی او ایل 54،سی او 1148 (انڈین قسم)، سی اویل 29، سی او ایل 44، بی ایل4،ایل 116، ایل 118اور ایس پی ایف 238ہرگز کاشت نہ کریں۔معیاری اقسام کو ترجیح دیں کیونکہ آئندہ معیار کی بنیاد پر بہتر قیمت ملنے کی امید ہے۔
12ـ کماد کا وقت کاشت فروری کے پہلے ہفتہ سے مارچ کے وسط تک ہے۔
13ـ زرخیز زمین کے لیے2189بوری یوریا1+بوری ڈی اے پی اور1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
14ـ ا گر زمین درمیانی زرخیز ہے تو188 3بوری یوریا2+ڈی اے پی بوری اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
15ـ کمزور زمین میں کماد کی فصل کے لیے 4بوری یوریا3+بوری ڈی اے پی اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑڈالیں۔
16ـ فاسفورس اور پوٹاش کی کل مقدار بوائی سے قبل سیاڑوں میں ڈال دی جائے جبکہ نائٹروجن اُگاؤ کے بعد تین اقساط میں ڈالیں۔
17ـ زمین کی زرخیزی بحال رکھنے کے لئے کیمیائی کھادوں کے علاوہ تین تا چار ٹرالیاں گوبر کی گلی سڑی کھاد ضرور ڈالیں تاہم یہ کام بوائی سے ایک ماہ پہلے کرنا چاہئے تاکہ گوبر کی کھاد زمین میں اچھی طرح مل جائے۔
کماد کی موڈھی فصل
1ـ آخر جنوری سے شروع مارچ تک موسم موڈھی فصل رکھنے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس وقت رکھی گئی موڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے ہیں اور پودے اچھا جاڑ بناتے ہیں۔
2ـ نومبر ، دسمبر اور شروع جنوری کے دوران رکھی گئی موڈھی فصل زیادہ جاڑ نہیں بناتی کیونکہ سردی کی شدت کی وجہ سے مڈھوں میں خفیہ آنکھیں مر جاتی ہیں اور کچھ مڈھ زمین میں پڑے گل جاتے ہیں ۔ گری ہوئی فصل کی موڈھی نہیں رکھنی چاہیے یہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔
3ـ گنا کاٹتے وقت سطح زمین سے ایک ڈیڑھ انچ نیچے یا زمین کے برابر کاٹا جائے ۔ اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔
4ـ کماد کے کھیت میں کیڑوں کے حملے ، بیماری لگنے اور ہل چلاتے ہوئے مڈھ اکھڑنے سے ناغے آ جاتے ہیں۔سردی کی شدت سے بھی مڈھ مر سکتے ہیں۔اس لیے ناغوں کا پُر کرنا بہت ضروری ہے ۔ گنے کے اسی قسم مڈھ لاکر ناغے پُر کریں۔
5ـ موڈھی فصل کی کھاد کی ضرورت لیرا فصل کی نسبت زیاد ہ ہوتی ہے لہٰذا موڈھی فصل کو سفارش کردہ مقدار سے 30فیصد زیادہ کھاد دینی چاہیے۔
6ـ آئندہ موڈھی فصل کی پیش بندی سابقہ فصل کی ظاہر ی صحت ، پودوں کا جاڑ، زمینی ساخت اور زرخیزی کو ذہن میں رکھ کر کرنی چاہیے۔
مکئی(بہاریہ کاشت)
1ـ مکئی کی کاشت کے لئے بھاری میرا زرخیز زمین بہت موزوں ہے۔ ریتلی سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اس کی کاشت کے لئے موزوں نہیں۔
2ـ مکئی کی بہاریہ کاشت کے لئے زمین اچھی طرح تیار کریں بہتر تیاری کے لئے تین تا چار مرتبہ ہل اور سہاگہ دیں کھیت کی ہمواری کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔
3ـ تمام میدانی علاقوں میں بہاریہ مکئی کی بوائی کے لئے موزوں ترین وقت 15 جنوری سے فروری کے آخر تک ہے جبکہ راولپنڈی ڈویژن (ماسوائے پہاڑی علاقے ) آخری فروری تا 20مارچ ہے۔لہٰذا اس دورانیے میں اس کی کاشت کو مکمل کریں۔
4ـ بہاریہ مکئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے سفارش کر دہ ہائبرڈ اقسام کاشت کریں۔
5ـ ڈرل سے کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 12سے 15 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں ۔ وٹوں پر کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 8 تا 10 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
6ـ آبپاش علاقوں میں کمزور زمین کو اڑھائی بوری ڈی اے پی اور ڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت ڈالیں۔
7ـ درمیانی زرخیز زمین میں دو بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔
8ـ بارانی رقبہ جات میں کم بارش والے علاقوں میں ایک بوری ڈی اے پی ، ایک بوری یوریااور آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں جب کہ زیادہ بارش والے علاقوں میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ڈیڑھ بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
9ـ ہائبرڈ اقسام کے لیے کمزور زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی اور دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ درمیانی زمین دو بوری ڈی اے پی اور دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
تیلدار اجناس
1ـ بیماریوں اور کیڑوں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مدد حاصل کریں۔
2ـ اگر رایااقسام میں75فیصد اور کینولا اقسام میں 50فیصد پھلیوں کا رنگ بھورا ہو جائے اور دانے سرخی مائل ہونے لگیں تو فصل فوراً کاٹ لیں۔
سورج مکھی
3ـ بہاریہ سورج مکھی کی کاشت اس پندھرواڑے میں مکمل کریں دیر سے بوئی گئی فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے۔
4ـ ایسی زمین جس میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو اور زیادہ ریتلی اور کلراٹھی نہ ہو اس فصل کے لئے موزوں ہے۔
5ـ زمین کو اچھی طرح ہموار کر لینا چاہیے تاکہ آبپاشی میں آسانی ہو ۔ ہموار زمین کو بوائی سے پہلے گہرا ہل چلا کر تیار کریں۔
6ـ فصل کی بوائی کے لئے بیج کی قسم کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ قسم آپ کے علاقہ میں اچھی پیداوار دے سکتی ہے یا کہ نہیں اس سلسلہ میں اپنے علاقہ کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کریں اور ان کی سفارشات کے مطابق قسم کا چناؤ کریں۔
7ـ اچھے اگاؤ کا اڑھائی کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہے اگر اگاؤ کی شرح کم ہو تو بیج کی مقدار اسی حساب سے بڑھا دیں۔
8ـ فصل قطاروں میں کاشت کریں قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو فٹ سے اڑھائی فٹ رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں ایک فٹ رکھیں۔
چارہ جات
1ـ برسیم اورلوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کو ہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضروری لگائیں۔
2ـ اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اور لوسرن کی کٹائی کے بعدآدھی بوری یوریا فی ایکڑ بوقت آبپاشی ڈالیں۔
سبزیات
3ـ موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، کالی توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
4ـ سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھے نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میں ملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔
5ـ بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ۔ کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں اور بیج کی شرح اُگاؤ 80فیصد ے کم نہ ہو۔
6ـ ٹـماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کر یں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوں جانب کریں۔
باغات
7ـ رشاوہ باغات کی شاخ تراشی کریں فالتو اور بیمار شاخوں کی کانٹ چھانٹ کریں۔
8 ـ نئے پھل دار پودے لگائیں اور پودے اچھی شہرت رکھنے والی نرسریوں سے خریدیں۔
9 ـ نائٹروجن کھاد کی پہلی قسط ایک کلو گرام فی پودا ڈالیں اور آبپاشی کریں۔
10ـ آم کے باغات میں چھوٹے اور پھل نہ لینے والے پودوں کی شاخ تراشی کریں۔آبپاشی کے انتظامات جاری رکھیں۔
11ـ سفوفی پھپھوندی کی بیماری کا خاص طور پر جائزہ لیں ۔ تیس فیصد پھول آنے پر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے حفاظتی سپرے کریں۔