Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16جنوری تا31جنوری 2012ء
Date 2012-01-01 - 2012-01-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16جنوری تا31جنوری 2013ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
(1)گندم:
1ـ دھان،کپاس، مکئی اورکماد کے بعد کاشتہ فصل کو دوسرا پانی 80تا 90دن بعد لگائیں اورپچھیتی کاشت کے لیے پہلا پانی شاخیں نکلتے وقت بوائی کے 20تا25دن بعد دوسرا پانی 70تا80دن بعد گوبھ کے وقت لگائیں۔
2 ـاگر پہلی آبپاشی میں تاخیر ہو گئی ہو تو جلد از جلد مکمل کریں۔
3 ـریتلی زمینوں میں یوریاکھاد چار برابر قسطوں میں ڈالیں۔
(i) پہلی آبپاشی کے بعد کھیت وتر حالت میں آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں۔
(ii) جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے فصل کی ابتدائی حالت میں پہلے پانی کے بعد جڑی بوٹیوں کی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے زہروں کا فوراً سپرے کریں۔ چوڑے اور نوکیلے پتوں والی دونوں اقسام کی جڑی بوٹیوں کی موجودگی کی صورت میں دونوں طرح کی زہروں کو ملا کر یا ان کے پری مکسچرز جو کہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں سپرے کریں۔ ورنہ علیحدہ علیحدہ سپرے کریں۔
(iii) جڑی بوٹی مار زہروں کے سپرے کے لیے 100یا120لیٹر پانی فی ایکٹر استعمال کریں اور سپرے اس وقت کریں جب سورج پوری طرح چمک رہا ہواور دھند یا شبنم کے اثرات فصل پر نہ ہوں۔ سپرے مشین کو اچھی طرح صاف کر کے ٹی جیٹ /فلیٹ فین نوزل کے ذریعے سپرے کریں ۔سپرے کے دوران فصل کا کوئی حصہ دوہری بار سپرے نہ ہو اور نہ ہی کوئی حصہ سپرے سے رہ جائے۔ دھند، تیز ہوا اور بارش کی صورت میں سپرے نہ کریں اور سپرے کے بعد گوڈی یا بارہیروکا استعمال بھی نہ ہو۔ علیحدہ علیحدہ سپرے کی صورت میں یا دونوں طرح کی زہریں ملا کر سپرے کرنے کی صورت میں زہروں کی مقدار کم نہ کریں۔ سپرے کے دوران ماسک اور ہاتھوں پر دستانے ضرور پہنیں اور ہوا کے رخ سپرے کریں۔
(2)کماد:
کماد کی برداشت:
1 ـگنا سطح زمین سے189 تا1انچ گہرا کاٹا جائے اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔ اس سے مڈھوں میں موجود گڑوؤں کی سنڈیاں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔
2 ـکماد کی کٹائی، گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مدنظر رکھ کر کریں۔پہلے ستمبر کاشت پھر مونڈھی کاشت اور اگیتی پکنے والی اقسام اور آخر میں درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام برداشت کریں۔
3 ـگنا کاٹنے سے 25تا30دن پہلے آبپاشی بند کردیں۔
4 ـگنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کردیں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔
5 ـمونڈھی فصل رکھنے کے لیے 15جنوری کے بعد کاٹیں۔کیونکہ سردی کی شدت سے مڈھوں میں پوشیدہ آنکھیں مر جاتی ہیں اورکچھ مڈھ زمین میں پڑے گل جاتے ہیں۔
کماد کی بہاریہ کاشت:
6 ـکماد کی اچھی پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی میرااوربھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔ اس کو مونجی اورکماد کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
7ـ اـن فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو تلف کیا جائے اس کے بعد 8تا10انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کر لیں۔
8ـ گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کوگہرا ھل چلاکر اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 8تا10انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔
ترقی داداہ اقسام:
9ـ اگیتی اقسام : سی پی 77-400، سی پی 43-33، سی پی ایف237، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242اور سی پی ایف243۔
10ـ درمیانی اقسام : ایس پی ایف213، ایس پی ایف234،ایس پی ایف245، سی پی ایف246اورسی پی ایف247۔
نوٹ: ایس پی ایف234،صرف راجن پور ، بہاولپور اور رحیم یار خاں کے لیے موزوں ترین قسم ہے۔
11ـپچھیتی اقسام : سی او جے84۔
نوٹ: غیر منظور شدہ اقسام ہرگز کاشت نہ کریں۔معیاری اقسام کو ترجیح دیتے ہوئے بیج کا بندوبست کریں کیونکہ آئندہ معیار کی بنیاد پر بہتر قیمت ملنے کی امید ہے۔
(4)چنا:
1ـچنے کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی جاری رکھیں۔
2ـ چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے بھی چنا زیادہ تر بارانی علاقوں کی فصل ہے۔ آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگرفصل سوکا محسوس کرے تو ہلکا پانی لگا دیں۔
3ـ کابلی چنے کے لیے پہلا پانی 45دن بعداور دوسرا پھول آنے پر دیں۔
4ـ ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کافی ہوتی ہے۔
5ـ آبپاش علاقوں میں کثرت کھاد، اگیتی کاشت یا بارش کی وجہ سے اگرفصل کا قد بڑھ رہا ہو تو مناسب حد تک سوکا دیں یا کاشت کے دو ماہ بعد شاخ تراشی کریں۔
6ـ چنے کی مشہور بیماریوں مثلاًچنے کے مرجھاؤ، چنے کے جھلساؤ اور بلائٹ سے بچاؤ کے لیے کھیتوں میں متاثرہ پودوں اور باقیات کو تلف کریں۔
(5)چارہ جات:
1ـ برسیم اور لوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کوہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔
2ـ اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اورلوسرن کی کٹائی کے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکٹربوقت آبپاشی ڈالیں۔
3ـ برسیم کی فصل کو شدید سردی اور کورے کے دنوں میں ہر ہفتہ عشرہ بعد ہلکاسا پانی لگائیں۔

(7) سبزیات:
1ـ آبپاشی کا خیال رکھیں۔ گوڈی کریں۔
2ـ چھوٹی نازک سبزیوں کو سردی سے بچانے کا بندوبست کریں۔
3ـ آلو کی فصل کا معائنہ کرتے رہیں ۔ بیماری یا کیڑے کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے عملے سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا بروقت سپرے کریں۔
4ـ بیج کے لیے آلو کی مخصوص فصل کا معائنہ باقاعدگی سے جاری رکھیں۔وائرس سے متاثرہ اور دوسری اقسام کے پودوں کو احتیاط سے اکھاڑ کر ضائع کر دیں۔
(8) باغات:
1ـ باغات کو کورے سے بچائیں۔کورے اور سردی سے بچاؤ کے لیے چھوٹے پودوں پر سایہ کریں۔
2ـ رات کے وقت باغ یا نرسری میں دھونی دیتے رہیں۔
3ـ کورے پڑنے والی راتوں میں باغات کو پانی دیتے رہیں۔
4ـ ترشاوہ باغات میں تیارپھل کی برداشت جاری رکھیں۔پھل سے خالی ہونے والے پودوں کی شاخ تراشی کریں۔
5ـ گوبر کی گلی سٹری کھاد 40تا50کلوگرام، سنگل سپر فاسفیٹ2.5کلوگرام ، پوٹاشیم سلفیٹ 1کلو گرام اور زنک سلفیٹ200گرام فی پودا ڈالیں اور گوڈی کریں۔
6ـ ایک ماہ کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔متوقع کہر کی صورت میں پانی جلدی لگائیں۔
7ـ آم کی گدھیڑی کے خلاف آم کے درختوں پر حفاظتی بند لگائیں اورتنے پر پہلے سے لگے ہوئے بندوں کا روزانہ مشاہدہ کریں۔ پودے کے نیچے زمین پرگوڈی کر کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر پاشی کریں۔
فصلات اورباغات کا کورے اور سردی سے تحفظ
پنجاب میں سخت سردی اورکورے کا دورانیہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس لگاتار موسم سے سبزیات اور باغات کے چھوٹے بڑے پودوں پر شدید مضر اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان اثرات سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر کا جاننا اور اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔
کورے کے نقصانات:
سخت سرد راتوں میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد پر آجاتا ہے تو پودے بڑی تیزی سے حرارت خارج کرتے ہیں اور ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ پودوں کے خلیوں کا پانی جم جاتا ہے اور خلیے کے کیمیائی اجزا یا اپنا توازن قائم نہیں رکھ پاتے یا اپنا اثر زائل کردیتے ہیں۔ پودے کے نرم ونازک حصوں پر سردی کا اثر زیادہ ہوتاہے۔
شدید سردی اگرچہ گندم کی فصل کے لیے نقصان دہ نہ ہے لیکن ان کے مضر اثرات کماد،باغات اور سبزیات پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
کماد (بیج کی فصل)پر کورے کے اثرات:
کورے کے شدید حملے سے کماد کا وزن کم ہوجاتاہے اور گنا کے رس کا معیار گر جاتاہے۔کورے کی وجہ کماد کے بڈز(آنکھیں) بھی متاثرہوتے ہیں اور اُن کے پھوٹنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔جس سے آئندہ فصل کے لیے بیج کے مسائل پیداہو سکتے ہیں۔
باغات پر کورے کے اثرات:
شدید کورا پڑنے کے باعث آم اور کیلے کے پتے جھلس جاتے ہیں۔ تنے کا چھلکا پھٹ جاتاہے۔ سخت سردی اورکہرسے آم کے چھوٹے بڑ ے پودے سوکھ جاتے ہیں جبکہ بڑے پودوں کے مختلف حصے بڑی حد تک متاثر ہوتے ہیں۔ موسم سرما کے آخر میں پھول نکلنے پر کورا پڑنے سے آموں کے پھولوں کا نرحصہ سوکھ جاتاہے جس کی وجہ سے پھل نہیں بنتا۔ مالٹا، گریپ فروٹ، کھجور کے تندرست اور صحت مند پودے سردی کا مقابلہ نسبتاً بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں کورے سے محفوظ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
باغات کا کورے اور سردی سے تحفظ:
موسم سرما میں باغات کو سخت سردی سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنی چاہیں تاکہ سردی کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
1ـ کورے کے نقصان دہ اثرات سے بچنے کے لیے سردیوں میں پودوں کے تنوں پر چونے اور نیلے تھوتھے کے محلول سے سفیدی کردینی چاہیے۔ اس سے بھی سردی کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتاہے۔
2ـ پودوں کے تنے کے گرد پرانی بوری یا پرالی لپیٹ کر بھی سردی کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔
3ـ کیڑے اور بیماریاں پودوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔ اس لیے ان کا بروقت تدارک کیا جائے تاکہ پودے تندرست اور توانا رہیں۔
4ـ کہر کی متوقع راتوں میں آبپاشی کی جائے کیونکہ آبپاشی سے زمین کے درجہ حرارت میں خاطر خواہ کمی نہیں ہوتی اورپودے کے خلیوں میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
5ـ باغات میں مختلف جگہوں پر گڑھے کھود کر ان میں پتے، گھاس، پھوس، بھوسہ یا پرالی وغیرہ جلا کر دھواں پیدا کرنے سے بھی کورے کا اثر کم کیا جا سکتا ہے۔
6ـ نرسری میں نازک پودے سخت سردی سے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اگر مناسب تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو بسا اوقات یہ پودے مربھی جاتے ہیں لہٰذا ان کو سرکنڈا یا پرالی سے اچھی طرح ڈھا نپ دینا چاہیے۔
سبزیات کا کورے اور سردی سے تحفظ:
شدید سردی اور کورے سے سبزیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ اس لیے سبزیوں کو کورے سے بچانے کے لیے کاشتکار درج ذیل سفارشات پر عمل کریں۔
1ـ فصل کی آبپاشی کا وقفہ کم کر دیں اور پانی کم مقدار میں لگائیں۔
2ـ فصل کے ارد گرد بھوسہ، پرالی یا گھاس وغیرہ جلا کر دھواں کریں۔
3ـ چھوٹی سبزیوں اور نرسریوں کو رات کے وقت پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیں۔
4ـ فصل کے شمال کی طرف سرکنڈا لگا دیں تاکہ فصل شمال کی طرف سے آنے والی ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رہے۔