Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم جنوری تا 15جنوری 2012ء
Date 2012-01-01 - 2012-01-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم جنوری تا 15جنوری 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم:
-1 کپاس، مکئی ،کماد کے بعداور وریال زمینوں پر کاشتہ فصل کو پہلا پانی 20تا 25دن بعد لگائیں جبکہ مونجی کے بعد کاشتہ فصل کو 30تا40دن بعد پانی لگائیں اورپیچھیتیکاشت کے لیے پہلا پانی شاخیں نکلتے وقت بوائی سے 20تا25دن بعد لگائیں۔
-2 ریتلی زمینوں میں یوریاکھاد چار برابر اقساط میں ڈالیں۔
-3 گندم کی اچھی اور زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی انتہائی ضروری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے 15تا42فیصد تک پیداوار کم ہو جاتی ہے۔
(i) پہلی آبپاشی کے بعد کھیت وتر حالت میں آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں۔
(ii) جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے فصل کی ابتدائی حالت میں پہلے پانی کے بعد جڑی بوٹیوں کی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے زہروں کا فوراً سپرے کریں۔ چوڑے اور نوکیلے پتوں والی دونوں اقسام کی جڑی بوٹیوں کی موجودگی کی صورت میں دونوں طرح کی زہروں کو ملا کر یا ان کے پری مکسچرز جو کہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں سپرے کریں۔ ورنہ علیحدہ علیحدہ سپرے کریں۔
(iii) دوسرے پانی کے بعد اگر نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں نظر آئیں تو ان کے لیے مؤثر سفارش کردہ زہر ضرور استعمال کریں۔
’’یاد رہے کہ جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی 15فیصد سے زائد پیدوار بڑھانے کی ضامن ہے۔‘‘
(iv) جڑی بوٹی مار زہروں کے سپرے کے لیے 100یا120لیٹر پانی فی ایکٹر استعمال کریں اور سپرے اس وقت کریں جب سورج پوری طرح چمک رہا ہواور دھند یا شبنم کے اثرات فصل پر نہ ہوں۔ سپرے مشین کو اچھی طرح صاف کر کے فلیٹ فین نوزل کے ذریعے سپرے کریں ۔سپرے کے دوران فصل کا کوئی حصہ دوسری بار سپرے نہ ہو اور نہ ہی کوئی حصہ سپرے سے رہ جائے۔ دھند، تیز ہوا اور بارش کی صورت میں سپرے نہ کریں اور سپرے کے بعد گوڈی یا بارہیروکا استعمال بھی نہ ہو۔ علیحدہ علیحدہ سپرے کی صورت میں یا دونوں طرح کی زہریں ملا کر سپرے کرنے کی صورت میں زہروں کی مقدار کم نہ کریں۔ سپرے کے دوران ماسک اور ہاتھوں پر دستانے ضرور پہنیں اور ہوا کے رخ سپرے نہ کریں۔

کپاس:
-1 کپاس کی آخری چنائی کے بعد کھیت میں بھیڑ بکریاں چھوڑ دیں تاکہ وہ بچے کھچے ٹینڈے کھالیں اور ان میں موجود سنڈیا ں خصوصاً گلابی سنڈی وغیرہ تلف ہو جائے۔
-2 کپاس کی آخری چنائی کے بعد چھڑیوں کو روٹا ویٹر کی مدد سے کھیت میں دبا دیں تاکہ امریکن اور لشکری سنڈی کے لاروے زمین میں ہی تلف ہو جائیں اور ان کی نسل کو آگے بڑھنے سے روکیں ۔
-3 کپاس میں نمی ہونے کی صورت میں کپاس کو باہر دھوپ میں خشک کر کے سٹور کریں۔ سٹور ہوادار ، فرش پختہ اور خشک ہونا چاہیے تاہم اگر سٹور میسر نہ ہو اور کپاس کو کھلا رکھنا مقصود ہو تو اونچی اورخشک زمین پر ریت کی پتلی سی تہہ پر پلاسٹک بچھا کر موصلی نما ڈھیروں میں رکھا جائے۔
کماد:
-1 فصل کی کٹائی سے 25تا30دن قبل پانی دینا بند کردیں۔
-2 فصل کی کٹائی جاری رکھیں۔فصل کی کٹائی سطح زمین سے ایک انچ گہرا کریں۔
-3 کٹائی کے بعد گناجلد از جلد مل کو سپلائی کریں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔
-4 مونڈھی فصل رکھنے کے لیے کٹائی 15جنوری کے بعد کریں۔
-5 کہر کی صورت میں فصل کو ہلکا پانی لگائیں۔
-6 ستمبر کاشتہ اور مونڈھی فصل کو پہلے کاٹیں۔
-7 بہاریہ کماد کی کاشت کے لیے زمین کا انتخاب اور دوسرے وسائل کا بندوبست کریں۔
چنا:
-1 چنے کی فصل میں شروع سے جڑی بوٹیوں کی تلفی ضروری ہے ۔ ان کی تلفی بذریعہ گوڈی کریں۔ پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30تا40دن بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی سے ایک ماہ بعد کریں۔
-2 کابلی چنے کے لیے پہلا پانی بجائی کے 45دن بعد اوردوسر ا پھول آنے پر دیں۔ دھان کی فصل کے بعد چنے کو آبپاشی کی ضرورت نہیں۔ ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کریں۔
-3 بیماریوں یا کیڑوں کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے توسیعی عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔
چارہ جات:
-1 برسیم اور لوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کوہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔
-2 اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اورلوسرن کی کٹائی کے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکٹربوقت آبپاشی ڈالیں۔
-3 برسیم کی فصل کو شدید سردی اور کورے کے دنوں میں ہر ہفتہ عشرہ بعد ہلکاسا پانی لگائیں۔
کچن گارڈننگ:
گھریلوپیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے بلکہ صحت کوبرقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔اپنے کھیت یا گھر کے باغچہ میں کاشت کی ہوئی سبزیاں زیادہ سستی ، سپرے اور دیگر غلاظتوں سے پاک ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھر میں سبزیات کو اُگانے کے لیے اگرکافی جگہ دستیاب نہ ہو تو ضرورت کے لیے گملوں ،کھلے ڈبوں ، پلاسٹک یا لکڑی کی ٹرے میں بھی سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں۔گھروں میں سبزیاں اُگاتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:۔
-1 چھوٹے پلاٹوں میں ایسی سبزیاں کاشت کی جائیں جو کافی دیر تک پیدوار دیتی ہوں۔مثلا پالک، دھنیا، میتھی وغیرہ۔جبکہ تین سے پانچ مرلہ کے پلاٹ میں ان سبزیوں کے علاوہ گوبھی ، ٹماٹر، گاجر ، شلجم ، مولی اوردیگر سبزیاں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔
-2 سبزیوں کی کاشت کے لیے نہری یا پینے والا پانی استعمال کریں۔
-3 سبزیوں کو پانی دیتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ پانی کھیلیوں سے اوپر نہ جائے ورنہ اس سے زمین سخت اور اُگاؤ متاثر ہو گا۔
-4 سبزیوں کے لیے ایسی مناسب جگہ کا استعمال کریں ۔جہاں دھوپ ہو، سایہ دار جگہ پر سبزیوں کا اُگاؤ متاثر ہوگا۔
-5 سبزیوں کی پنیری تیار کرتے وقت زمین کو بُھربھرا کر لیں اور اس میں بیج لگا کر اس کو فوارے سے پانی دیں۔
-6 بیل والی سبزیوں کو دیوار کے ساتھ اونچا کر کے باندھیں تاکہ اس میں ہوا کا مناسب گزر ہو۔اس طرح سبزیاں بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں اور زیادہ دیر تک پھل دیتی ہیں۔
اس سلسلہ میں محکمہ زراعت ، ڈائریکٹوریٹ فلوریکلچر کا شعبہ گرین بیلٹ ، لاہور ، خانیوال، راولپنڈی کے علاوہ ادارہ سبزیات ایوب ریسررچ فیصل آباد کاشتکاروں کو چھوٹے پیمانے پرسبزیات کی کاشت کے لیے معلومات اور عمدہ بیج بھی فراہم کررہا ہے ۔مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے فون نمبروں 042-99202363-64کے علاوہ ضلعی و تحصیل دفتر محکمہ زراعت توسیع سے رابطہ کیا جا سکتاہے۔
سبزیات:
-1 آبپاشی کا خیال رکھیں۔ گوڈی کریں۔
-2 چھوٹی نازک سبزیوں کو سردی سے بچانے کے لیے رات کے وقت پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیں۔
-3 آلو کی فصل کا معائنہ کرتے رہیں ۔ بیماری یا کیڑے کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے عملے سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا بروقت سپرے کریں۔
-4 بیج کے لیے آلو کی مخصوص فصل کا معائنہ باقاعدگی سے جاری رکھیں۔وائرس سے متاثرہ اور دوسری اقسام کے پودوں کو احتیاط سے اکھاڑ کر ضائع کر دیں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
-1 ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال جاری رکھیں۔
-2 سپرے کرنے اورکھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیداہوکر نقصان نہ پہنچائے۔
-3 دن کے وقت تقریباً 9بجے صبح سے 4بجے شام تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلارکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہواخارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan)لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جا سکے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جا سکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15سے30درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔
-4 پودوں کی ترتیب ،کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا خیال رکھیں۔
باغات:
موسم سرما کے مضر اثرات سے باغات اور نرسریوں کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا بہت ضروری ہے اگر باغات اور نرسریوں کو قدرتی آفات کے حوالے کر دیا جائے تو ان سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔اس لیے حسب ذیل نکات پر عمل کریں۔
-1 باغا ت کو کورے سے بچائیں۔کورے اور سردی سے بچاؤ کے لیے چھوٹے پودوں پر سایہ کریں۔
-2 رات کے وقت باغ یا نرسری میں دھونی دیتے رہیں۔
-3 کورے پڑنے والی راتوں میں باغات کو پانی دیتے رہیں۔
-4 ترشاوہ باغات میں پھل کی برداشت جاری رکھیں۔پھل سے خالی ہونے والے پودوں کی شاخ تراشی کریں۔
-5 گوبر کی گلی سٹری کھاد 40تا50کلوگرام، سنگل سپر فاسفیٹ2.5کلوگرام ، پوٹاشیم سلفیٹ 1کلو گرام اور زنک سلفیٹ200گرام فی پودا ڈالیں اور گوڈی کریں۔
-6 ایک ماہ کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔متوقع کہر کی صورت میں پانی جلدی لگائیں۔
-7 آم کی گدھیڑی کے خلاف آم کے درختوں پر حفاظتی بند لگائیں اور زمینی کنٹرول کریں ۔ پودے کے نیچے زمین پرگوڈی کر کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر پاشی کریں۔